افغانستان میں پنپتی دہشتگردی اورمنشیات کی اسمگلنگ خطے کیلئےسنگین چیلنج

Calender Icon اتوار 19 اپریل 2026

افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ پشت پناہی نے پڑوسی ممالک کی سماجی اور معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ خطے کے لیے نئی تشویش بن گیا ہے۔

کرغزستان(Kyrgyzstan) کے معروف جریدے دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا کی رپورٹ کے مطابق تاجک سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو افغان منشیات اسمگلرز کو ہلاک کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی تاجکستان کے ضلع فرخور میں اس وقت عمل میں آئی جب اسمگلرز نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں روک دیا، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے 25 کلو گرام منشیات بھی برآمد کی گئیں۔

جریدے کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک پہلے ہی افغانستان کی غیر مستحکم عسکری، سیاسی اور معاشی صورتحال کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دے چکے ہیں، اور حالیہ واقعہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک میں افغان جرائم پیشہ عناصر کی مسلسل دراندازی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان میں حکومتی سطح پر مؤثر کنٹرول کی کمی موجود ہے، جس کے باعث یہ عناصر سرحد پار سرگرم رہنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی، بھارت کی نام نہاد اسٹریٹجک خودمختاری پر سوال

علاقائی ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان خطرات کا مقابلہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔