ایک امریکی عہدیدار کی مبینہ خفیہ گفتگو کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اہلکار اینڈریو ہگ(Andrew Hugg) کی ایک عوامی مقام پر حساس معاملات پر گفتگو کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
یہ ویڈیو آزاد تحقیقاتی صحافت سے وابستہ امریکی صحافی جیمز اوکیف نے آن لائن جاری کی، جس میں مبینہ طور پر اینڈریو ہگ کو امریکا کی مستقبل کی حکمت عملی، جوہری نظام اور کیمیائی ہتھیاروں جیسے حساس موضوعات پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:وزیراعظم کی آئندہ سرکاری استعمال کےلیے صرف الیکٹرک بسیں، موٹر سائیکلیں خریدنے کی ہدایت
رپورٹ کے مطابق خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو میں امریکی عہدیدار نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
ویڈیو میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای پالیسی تبدیل نہ کریں تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
BREAKING NEWS: Top U.S. Nuclear Chief Caught LEAKING Sensitive National Security Information to Stranger, Reveals Army Chemist Was Exposed to U.S. Chemical Nerve Agent, Confirms U.S. Strike Killed Children in Iran, Discloses U.S. Plans to ‘Kill Iran’s New Supreme Leader’
“If he… pic.twitter.com/owL1YGUnms
— James O’Keefe (@JamesOKeefeIII) April 21, 2026
ایک سوال کے جواب میں مبینہ طور پر اینڈریو ہگ نے کہا کہ امریکا کا ایران میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے امریکی حملوں میں بچوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد اینڈریو ہگ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کی ترجمان نے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات تک انہیں انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اینڈریو ہگ امریکی فوج میں کیمیائی اور جوہری سلامتی سے متعلق ایک اہم شعبے کے سربراہ تھے، تاہم امریکی حکومت نے تاحال ان کے عہدے کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق اگر ویڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو یہ معاملہ امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوال بن سکتا ہے۔












جمعرات 23 اپریل 2026 