واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا۔ امریکی قائمقام اٹارنی جنرل (attorney jeneral)کا کہنا ہے کہ شبہ ہے حملہ آور کا ہدف صدر ٹرمپ تھے۔
امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل بلانش نے کہا کہ شبہ ہے ملزم لاس اینجلس ، پھر شکاگو سے ٹرین سے واشنگٹن پہنچا، پتہ چلا ہے ملزم نے گذشتہ سال کے دوران اسلحہ خریدا، شبہ ہے حملہ آور حکومتی ارکان کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
ٹوڈ بلانش نے مزید کہا کہ یہ پتہ چلا ہے ملزم کے پاس سے کچھ تحریری مواد ملا ہے، ملزم نے اکیلے کارروائی کی،وہ ہوٹل میں قیام پذیر تھا۔ مشتبہ حملہ آور کے مقاصد کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔
امریکی حکام کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے گرفتار مشتبہ حملہ آور کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ مشتبہ شخص کی شناخت کیلیفورنیا سےتعلق رکھنے والے ایک 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے،حملہ آورکیلیفورنیا میں ایک ٹیچر ہے،ایف بی آئی ایجنٹس لاس اینجلس میں حملہ آور کے گھر پہنچ گئے،حملہ آور کے گھر کو فیتہ لگا کر بند کردیا گیا ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق ملزم کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہے، پارٹ ٹائم ٹیچر اور گیم ڈویلپر کے طور پرکام کرتا تھا، 41سال کا ایلن لاس اینجلس کا رہائشی ہے،دسمبر 2024 میں ٹوماس ایلن بہترین ٹیچر کا ایوارڈ دیا گیا تھا،ملزم نے 2025 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹر کیا تھا،کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تدریسی معاون بھی رہا،ابھی تک حملے کا کوئی محرک سامنے نہیں آیا۔
پولیس حکام کے مطابق حملے کے وقت ملزم کے پاس ایک سے زیادہ ہتھیار شاٹ گن، پستول اور چاقو تھے اوراس نےسکیورٹی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت انسانیت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، سینیٹر برنی سینڈرز نے خبردار کردیا
واقعے میں ایک سیکرٹ سروس اہلکار کو گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے بچ گیا۔












اتوار 26 اپریل 2026 