بھارت، جامعہ سراج العلوم بند، اثاثے ضبطی کاحکم، کشمیری حلقوں میں تشویش

Calender Icon پیر 27 اپریل 2026

بھارتی حکام نے جامعہ سراج العلوم کو بند کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ادارے کے تمام اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی بھارت کے متنازع قانون(disputed laws) یو اے پی اے کے تحت کی گئی۔

ڈویژنل کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے بعد کشمیری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں اس اقدام کو مذہبی آزادی اور تعلیمی اداروں کے حقوق کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

کشمیر کی یہ معروف اور قدیمی درسگاہ طویل عرصے سے دینی تعلیم فراہم کر رہی تھی۔ مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

اس انتہائی جنونی بھارتی اقدام پر مذہبی آزادی سے متعلق نئے سوالات اٹھ گئے۔کشمیری مسلمانوں کی قدیمی درسگاہ بند، مختلف حلقوں کا شدید ردعمل۔جامعہ سراج العلوم کے خلاف کارروائی، مذہبی حقوق پر بحث تیز

مزید پڑھیں:اندھیرنگری،102 یونٹ کا بل 11800روپے، کامل علی آغا پاورڈویژن پر برس پڑے

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خطے میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔