امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کو آج (جمعرات کے روز) ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں سے ٹرمپ کو آگاہ کیا جائے گا۔
میڈیا آؤٹ لیٹ ایکسیوس نے معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینٹکام نے ایرانی اہداف پر مختصر اور طاقتور حملوں کی ایک لہر کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ممکنہ طور پر بنیادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ایران پر مذاکرات میں لچک دکھانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔
ذرائع میں سے ایک کے مطابق زیرِ غور دیگر آپشنز میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنا اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے خصوصی زمینی فوجی دستے بھیجنا شامل ہے۔
صدر ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو فوری خطرہ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی، بشمول افزودگی کی ترقی کا حق حاصل ہے، جیسا کہ نیوکلیئر نان پرو لیفریشن ٹریٹی کے تحت طے ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کو امید ہے کہ وہ ایران کو جوہری معاملات پر مذاکرات کی میز پر زیادہ لچکدار بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
مزیدپڑھیں:ایران کی ناکہ بندی جینیئس فیصلہ ہے: ٹرمپ
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق ایسے حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
1949ء کے جنیوا کنونشنز کے تحت شہریوں کے لیے ضروری مقامات کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔
رپورٹ کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے بھی جمعرات کی بریفنگ میں شریک ہونے کی توقع ہے۔












جمعرات 30 اپریل 2026 