حکومت نے نئی مجوزہ آٹو پالیسی(Auto Policy) 2026-31 کے تحت دبئی/جبلِ علی ماڈل کی طرز پر پاکستان سے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد-مرمت-برآمد (نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے، تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے
۔خلیجی جنگ کے بعد کے تناظر میں، اس تجویز کو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی جانب سے بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ملک میں ایک منافع بخش کاروبار بن سکتا ہے۔ پاکستان اس مجوزہ طریقہ کار کے ذریعے ملین ڈالرز کی برآمدات حاصل کرنے کا خواہاں ہے، ایسے وقت میں جب ملکی برآمدات مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
مزیدپڑھیں:امریکی حکام خطے کو فوجی دھمکیاں دینا بند کر دیں، ایرانی صدر
آٹو پالیسی اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ہے، جس کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔آٹو پالیسی میں استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد مرمت برآمد نظام کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دبئی/جبلِ علی کے بین الاقوامی ماڈل کی طرز پر ہوگا اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ڈیوٹی میں رعایت فراہم کرے گا۔












بدھ 6 مئی 2026 