مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 22ہزار جبکہ مؤخر ادائیگی پر 23ہزار 500 روپے کی سطح پر آگئی ہے(chairman cotton generz)، چیئرمین کاٹن جنرز فورم
ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں کپاس کا نیا جننگ سیزن شروع ہونے سے قبل روئی کے ذخائر کا حجم 10ہزار گانٹھوں کی سطح سے بھی کم ہونے کے باعث آنے والے دنوں میں روئی کی عدم دستیابی کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں جس سے بعض ٹیکسٹائل ملیں غیر فعال ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاک-افغان سرحد کی بندش کے نتیجے میں افغانستان سے تقریباً روئی کی 5لاکھ گانٹھیں پاکستان درآمد نہ ہونے، خلیج جنگ سے درآمدی سرگرمیوں کی معطلی مقامی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے روئی کی کمی کا باعث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہی مسائل کے باعث گزشتہ ہفتے مقامی مارکیٹ میں روئی کی فی من قیمت 22ہزار روپے فی من جبکہ مؤخر ادائیگی پر 23ہزار 500 روپے فی من کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں:سب میرین کیبل خراب: 11 مئی تا 18 مئی انٹرنیٹ کی رفتار سست رہیگی، پی ٹی سی ایل
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن عیدالاضحیٰ کے فوری بعد شروع ہونے کے امکانات ہیں اور نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز جون کے تیسرے ہفتے میں ہوگا جو مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی مطلوبہ ضروریات پوری کرسکے گی۔














اتوار 10 مئی 2026 