ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا

Calender Icon پیر 11 مئی 2026

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump)کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبہ دراصل ’ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف تھا۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں کہا کہ تہران کی جانب سے دیے گئے جواب میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیا گیا ہے اور ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی تازہ تجاویز میں امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ خطے میں سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے معاملات پر ایران کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

مزیدپڑھیں:اپنے ہی فوجی اڈوں سے اسلحہ چرانے پر متعدد اسرائیلی فوجی گرفتار

آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی جواب میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔