کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن(Cambridge International Education) نے اے لیول اور اے ایس لیول کے بعض امتحانی پرچوں کے قبل از وقت لیک ہونے کے معاملے پر اہم اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے متاثرہ امیدواروں کے لیے نئے فیصلوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 13 مئی کو دی گئی اطلاع کے مطابق کیمبرج انٹرنیشنل اے لیول میتھمیٹکس پیپر 32 (9709) کے امتحان کو احتیاطی اقدام کے طور پر ملتوی کیا گیا تھا، جسے اب جون 2026 کے نظرثانی شدہ شیڈول کے تحت پیر 8 جون کو لیا جائے گا۔
کیمبرج نے واضح کیا کہ امتحانات میں تبدیلی کے باوجود نتائج جاری کرنے کی تاریخ 11 اگست 2026 ہی برقرار رہے گی جبکہ برٹش کونسل جلد امتحان کے انعقاد سے متعلق تفصیلی ہدایات جاری کرے گی۔
میتھمیٹکس اور کمپیوٹر سائنس کے پرچے لیک ہونے کی تصدیق
کیمبرج انتظامیہ کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ تصدیق ہوئی ہے کہ کیمبرج انٹرنیشنل AS اور A لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709/52)، جو انتظامی زون 3 اور 4 میں لیا گیا تھا، امتحان سے قبل غیر قانونی طور پر شیئر کیا گیا۔
مزیدپڑھیں:صرف ایک لاکھ روپے میں اپنی سی ڈی 70 کو ہائبرڈ الیکٹرک بائیک بنوائیں
اسی طرح اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اے ایس لیول کمپیوٹر سائنس پیپر 12 (9618/12)، جو 12 مئی کو منعقد ہوا تھا، پاکستان میں قبل از وقت لیک ہوا۔
کیمبرج نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ملک میں لیک شدہ مواد کی گردش کا مطلب یہ نہیں کہ خلاف ورزی کا آغاز بھی وہیں سے ہوا ہو۔ ادارے کے مطابق اصل ماخذ جاننے کے لیے تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
ایماندار طلبہ کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ
کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ان طلبہ کے ساتھ انصاف کرنا ہے جنہوں نے کسی قسم کی بددیانتی نہیں کی، کیونکہ ایسے طلبہ کی تعداد اکثریت میں ہے۔
ادارے کے مطابق ضروری ہے کہ دھوکہ دہی کرنے والے کسی قسم کا ناجائز فائدہ حاصل نہ کر سکیں تاکہ یونیورسٹی داخلوں کے لیے تمام امیدوار یکساں بنیادوں پر مقابلہ کریں۔
اسی مقصد کے تحت کیمبرج کے سینئر تشخیصی ماہرین نے فیصلہ کیا ہے کہاے ایس اور اے لیول میتھمیٹکس پیپر 52 کے لیے زون 3 اور 4 کے تمام امیدواروں کو “اسسڈڈ مارکس” دیے جائیں گے۔
جبکہ اے ایس لیول کمپیوٹر سائنس پیپر 12 کے لیے پاکستان بھر کے امیدواروں کے لیے بھی “اسسڈڈ مارکس” کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔
“اسسڈڈ مارکس” کیا ہوتے ہیں؟
کیمبرج کے مطابق “اسسڈڈ مارکس” ایک تسلیم شدہ اور تحقیق شدہ طریقہ کار ہے جسے برطانیہ کے دیگر امتحانی بورڈز بھی استعمال کرتے ہیں۔
یہ طریقہ عام طور پر ان حالات میں اختیار کیا جاتا ہے جب کوئی امیدوار جائز وجوہات، جیسے بیماری یا حادثے، کے باعث امتحان میں شریک نہ ہو سکے۔
ادارے نے یقین دہانی کرائی کہ یونیورسٹیاں ایسے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرتی ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتی ہیں۔
امتحانی نظام کی سیکیورٹی پر مؤقف
کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ امتحانات کے تحفظ سے متعلق چیلنجز صرف ایک بورڈ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام امتحانی اداروں کو اس قسم کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
ادارے کے مطابق امتحانی پرچوں کی تیاری، ترسیل، اسٹوریج اور تقسیم کے ہر مرحلے پر سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
ساتھ ہی طلبہ کو خبردار کیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں، جعلی معلومات اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیمز سے محتاط رہیں۔












جمعرات 21 مئی 2026 