ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک، سخت شرائط کے باعث معاہدہ پھر تعطل کا شکار

Calender Icon اتوار 31 مئی 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے باعث مجوزہ امن معاہدہ قریب آ کر دوبارہ دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی فریم ورک کے لیے نئی اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان حتمی اتفاق ممکن نہیں ہو سکا۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے معاہدے کی ابتدائی شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیاں شامل کی گئی ہیں۔

نئے مجوزہ فریم ورک میں ایران کے یورینیم ذخائر پر سخت کنٹرول، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل نگرانی اور طویل المدتی جوہری پروگرام کے خاتمے کی شرائط شامل ہیں۔

مزیدپڑھیں:ترکیہ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت فلسطینی ریاست سے مشروط کر دی

رپورٹ کے مطابق ان نئی ترامیم کے باعث مذاکرات کئی روز تک مزید طول پکڑ سکتے ہیں، جبکہ حتمی منظوری امریکی صدر کے فیصلے سے مشروط ہے۔

دوسری جانب Donald Trump نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہے، تاہم کسی بھی جلد بازی سے گریز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مناسب معاہدہ نہ ہوا تو فوجی آپریشن کا آپشن موجود رہے گا، جبکہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔