بلوچستان میں ٹاٹ اور دری کلچر ختم کرنے کا فیصلہ

Calender Icon جمعرات 4 جون 2026

بلوچستان(Balochistan) میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت تعلیم، صحت اور امن و امان سے متعلق جائزہ اجلاس میں صوبے کے تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کئی فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں طے پایا کہ تمام فعال سرکاری اسکولوں سے ٹاٹ اور دری کلچر ختم کیا جائے گا، اور اس کی جگہ طلبہ کے لیے ڈیسک اور جدید بیٹھنے کا انتظام فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ریڈنگ اور رائٹنگ میٹریل بھی اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو سکے۔

مزید فیصلوں کے مطابق پرائمری سطح کے تمام اسکولوں کو جینڈر فری قرار دیا جائے گا، جبکہ صوبے کے 900 سرکاری اسکولوں میں دو شفٹوں میں تدریسی عمل شروع کیا جائے گا۔ پرائمری سطح تک اسکول یونیفارم کی شرط بھی ختم کرنے کی منظوری دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے نظام میں شامل کیا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ سال تک صوبے کے 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمروں اور ڈیسک کی فراہمی مکمل کر لی جائے گی۔

مزیدپڑھیں:پلاٹوں کی الاٹمنٹ اب ای بیلٹنگ سسٹم سے ہوگی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی بچہ اب فرش یا ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کرے گا، اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اسکولوں کے اچانک دورے بھی کیے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کسی اسکول میں بچہ فرش پر بیٹھا پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔