امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump)کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے بجائے سفارتی حل اور ممکنہ امن معاہدے پر زور دینے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی پیش رفت اور امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کے خدشات کم کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت کم ہو کر 93.5 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سفارتی پیش رفت جاری رہی تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
اس سے قبل دن کے دوران برینٹ کروڈ تقریباً 3 فیصد سے زائد کمی کے بعد 94 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 4 فیصد کمی کے ساتھ 92 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا تھا۔
مزیدپڑھیں:حکومت نے بجٹ 27-2026کے لیے ڈالر کی قیمت 290 روپے مقرر کر دی
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات ہیں۔ سرمایہ کار اب اس امکان کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع سفارتی ذرائع سے حل ہو سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔
سرمایہ کاری فرم آگین کیپیٹل کے پارٹنر جان کلڈف کے مطابق مارکیٹ اس وقت سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیحی عنصر کے طور پر دیکھ رہی ہے، جبکہ تیل کی رسد میں رکاوٹ کے خدشات وقتی طور پر پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات میں کمی بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ سفارتی اشاروں کے بعد مارکیٹ میں یہ اعتماد بڑھا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں اور کسی بھی نئی فوجی یا سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔












جمعہ 5 جون 2026 