ایس ایم تنویر نے بجٹ کومعیشت کی بحالی اور ترقی کی سمت ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیدیا

Calender Icon ہفتہ 13 جون 2026

یونائیٹڈ بزنس گروپ (UGB) کے پیٹرن اِن چیف اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے رہنما ایس ایم تنویر نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو معیشت کی بحالی اور ترقی کی سمت ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیا ہے۔

اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کو محض ایک مالی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ایک “گروتھ اورینٹڈ روڈ میپ” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو ملک کو معاشی استحکام سے ترقی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ایس ایم تنویر نے بجٹ میں دی جانے والی مختلف ٹیکس رعایتوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان پر عائد سپر ٹیکس کا خاتمہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے جو پاکستان کی برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنانے میں مدد دے گا۔ اسی طرح ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی سے نہ صرف اس شعبے کو ریلیف ملے گا بلکہ تعمیرات سے جڑی تقریباً 80 ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی۔

انہوں نے دکاندار طبقے کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام کے اجرا کو بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے چھوٹے کاروباری افراد کو سہولت ملے گی اور ٹیکس نیٹ میں شمولیت بھی بڑھے گی۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی ٹیکس ریلیف کو انہوں نے معاشی دباؤ کے شکار طبقات کے لیے اہم سہارا قرار دیا۔

مزیدپڑھیں:مودی کی ناکام حکمتِ عملی، منی پور میں کوکی میتی تنازعہ شدت اختیار کر گیا

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری گزشتہ کئی سالوں سے ٹیکس میں کمی اور کاروبار دوست پالیسیوں کا مطالبہ کر رہی تھی تاکہ معیشت کو صرف استحکام (stabilization) سے نکال کر حقیقی ترقی (growth phase) میں داخل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق موجودہ بجٹ اسی سمت ایک عملی کوشش ہے۔

ایس ایم تنویر نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس شعبے میں مضبوطی ضروری ہے۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع اور استحکام کے لیے ان کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے اسلام آباد امن مذاکرات میں سول اور عسکری قیادت کے مشترکہ اقدامات کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں دی گئی مراعات سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور اس کا براہ راست اثر معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑے گا۔ ان کے مطابق تعمیراتی شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

آخر میں ایس ایم تنویر نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اور پوری اقتصادی ٹیم کو ایک متوازن اور عوام و کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات ملک کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

Pakistan income tax calculator 2026-27