چین فن تعمیرات اور اپنے کاروباری منصوبوں(Business Projects) کے حوالوں سے اپنی مثال آپ ہے، گزشتہ ایک دہائی چین نے اپنے کئی منصوبوں سے نہ صرف اپنی معیشت اور سیاحت کو فروغ دیا ہے بلکہ اس نے ان منصوبوں کو دنیا کو بھی حیران کردیا۔
چین کا نیا منصوبہ واقعی حیران کر دینے والا ہے یہ تعمیراتی منصوبہ کسی شہر میں مکمل نہیں کیا جارہا بلکہ اسے پانی کے اوپر تیار کیا جار ہا ہے۔ ڈالیان جنزہووان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو جنزہوو بے پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ چین کا پہلا ہوائی اڈہ ہے جسے سمندری پانیوں کے اوپر ایک مصنوعی جزیرے پر تعمیر کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق 7.7 اسکوائر میل رقبے پر پھیلا یہ ائیرپورٹ آئی لینڈ اتنا بڑا ہے کہ کسی مسافر کے طیارے پر سوار ہونے سے قبل ہی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
ابھی اس ائیرپورٹ پر 2 رن ویز اور ایک ٹی ون ٹرمینل کی تعمیر پر کام کیا جارہا ہے جہاں ہر سال 4 کروڑ 30 لاکھ مسافروں آسکیں گے جبکہ 3 لاکھ 30 ہزار طیارے لینڈ یا پرواز کرسکیں گے۔
مگر طویل المعیاد بنیادوں پر اس ائیرپورٹ میں 4 رن ویز موجود ہوں گے جبکہ اس کا ایک ٹرمینل 97 لاکھ اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلا ہوگا جہاں 8 کروڑ مسافر ہر سال آسکیں گے۔
ساڑھے 7 ارب ڈالرز لاگت کے اس ائیرپورٹ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کا 37 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس ائیرپورٹ کے ستون 82 فٹ زیرآب نصب کیے جائیں گے جبکہ مصنوعی جزیرے کی تعمیر کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ کیوبک گز میٹریل کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:عالمی منڈی، خام تیل کی قیمتوں میں مزید 1.54فیصد کمی ریکارڈ
اس ائیرپورٹ پر ہوائی ٹریفک کا آغاز 2035 میں ہونے کا امکان ہے جبکہ مصنوعی جزیرے پر 850 درخت لگائے جائیں گے۔ اسی طرح ائیرپورٹ کو سرسبز بھی بنایا جائے گا۔












منگل 16 جون 2026 