ایران ،امریکا امن معاہدے پر دستخط کی تقریب ملتوی ہونے کے پیچھے اصل کہانی سامنےآگئی

Calender Icon جمعہ 19 جون 2026

اسلام آباد (طارق محمود سمیر) پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط ہو گئے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے پر دستخط کئے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور ثالث معاہدے پر دستخط گئے تاہم دستخطوں کے لئے منعقد کی جانے والی ایک تقریب اچانک منسوخ کر دی گئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹرز لینڈ بھی منسوخ ہو گیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے نتیجے میں خطے میں صورتحال خراب ہوئی بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑا نقصان پہنچا، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جن مقاصد کے لئے حملہ کیا تھا وہ حاصل نہیں کئے جاسکے تاہم البتہ پہلے دن ہونے والے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت بعض اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور وہ شہید ہو گئے ایران کے اندر میزائل حملوں کے نتیجے میں کافی تباہی کی گئی حتی کہ لڑکیوں کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ایک سوستر طالبات شہید ہوگئی تھیں ایران میں رجیم چینج میں کامیابی نہیں ملی۔

ایران کے کامیاب جوابی حملوں میں اسرائیل کے اندر خاصا نقصان ہوا جبکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی ایران نشانہ بناتا رہا تاہم جب ایران آبنائے ہرمز کو بند کیا تو پھر دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہوا تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہونے سے تمام ممالک میں مسائل پیدا ہوئے مہنگائی میں بھی بڑا اضافہ ہوا اسی عرصے میں پاکستان نے سفارتی کوششیں شروع کیں جن کے نتیجے میں مذاکرات کا ایک دور اپریل میں پاکستان میں ہوا جس میں کافی حد تک کامیابی مل گئی تھی لیکن کریڈٹ کے چکر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو عین موقع پر معاہدے پر دستخط کرنے سے منع کر دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں ایران اور امریکہ سے مسلسل رابطے رکھے اور پاکستان دونوں ممالک کو ایک معاہدے کے قریب لے آیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا تیل کی قیمتوں میں کمی ہورہی ہے ۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران معاہدہ، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہیں؛ قطر

پاکستان میں اس کے مثبت اثرات پڑھ رہے ہیں اور قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکان ہیں جہاں تک وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سوئٹرز لینڈ کے منسوخ ہونے کا تعلق ہے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ معاہدے پر ایران امریکہ کے صدور اور وزیر اعظم کے الیکٹرانک دستخط ہو گئے دستاویزات کا تبادلہ ہو گیا ہے اس لئے وزیر اعظم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ سیکرٹری خارجہ کے علاوہ اعلیٰ حکام پہلے ہی سویٹرز لینڈ پہنچ چکے تھے تاہم بعض سفارتی ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے بعد جنیوا جانے کی بجائے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور امریکی صدر کی عدم موجودگی میں وزیر اعظم شہباز شریف کا سویٹرز لینڈ جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا کیونکہ ایرانی صدر بھی سویٹرز لینڈ نہیں آرہے تھے اور ایران کے سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایک وفد آرہا تھا اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے دورے کا بھی واضح امکان نہیں تھا حالانکہ جنیوا میں امریکہ کے بعض طیارے اور سکیورٹی سٹاف پہنچ گیا تھا۔

ان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی صدر نے خود معاہدے پر دستخط کر دیئے تھے اور وہ مزید کسی بات کا کریڈٹ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو نہیں دینا چاہتے تھے اس لئے نہ خود جنیوا آئے اور نہ ہی جے ڈی وینس کو جنیوا جانے کے حوالے سے گرین سگنل دیا گیا اسی لئے ایرانی اور پاکستانی وفود نے بھی دورے منسوخ کر دیئے، پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم اور ایرانی وفد کی قیادت سپیکر باقر قالیباف کر رہے تھے۔