دنیا بھر میں گزشتہ دو صدیوں کے دوران اوسط عمر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے سال، جنہیں “ہیلتھ اسپین” کہا جاتا ہے، اسی رفتار سے نہیں بڑھے، جس پر سائنسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یورپی سوسائٹی آف ہیومن جینیٹکس کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی نئی تحقیق کے مطابق صحت مند بڑھاپا صرف زیادہ عمر پانے کا نام نہیں، بلکہ جسمانی اور ذہنی طور پر طویل عرصے تک فعال رہنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے خاندان، جن کے افراد غیر معمولی طور پر زیادہ عمر پاتے ہیں، ان میں بعض نایاب جینیاتی تبدیلیاں موجود ہوتی ہیں جو جسم کو دیر تک صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جینیاتی عوامل دائمی بیماریوں کے آغاز کو مؤخر کرنے اور جسمانی نظام کو بہتر انداز میں برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بھارت، ٹھیلے سے مضر صحت کھانا کھانے کے بعد 59 افراد کی حالت بگڑ گئی، اسپتال منتقل
سائنس دانوں نے 212 ایسے خاندانوں کے جینیاتی نمونوں کا تجزیہ کیا، جن میں طویل عمر عام تھی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بعض جینیاتی تبدیلیاں خلیوں کی مرمت، جسم میں سوزش کو کم کرنے، خلیاتی استحکام برقرار رکھنے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں خاص طور پر OBFC1 نامی جین کو اہم قرار دیا گیا، جو خلیوں کے ٹیلومیئرز کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹیلومیئرز خلیوں کو زیادہ عرصے تک فعال اور مستحکم رکھتے ہیں، جس سے عمر بڑھنے کے منفی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ صحت مند اور طویل زندگی کا انحصار صرف جینیات پر نہیں ہوتا بلکہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، بہتر طرزِ زندگی، معاشی حالات، ماحول اور مثبت رویے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند بڑھاپا دراصل جینیاتی عوامل، ڈی این اے کی مرمت، سوزش پر قابو، خلیاتی استحکام اور متوازن میٹابولزم جیسے متعدد عوامل کا مجموعہ ہے۔












پیر 22 جون 2026 