پہلی بار پاکستان عالمی مالیاتی نظام کے سامعین میں نہیں بلکہ اُس میز پر موجود تھا جہاں اِس نظام کا اگلا باب لکھا جا رہا ہے۔
زیورخ میں منعقدہ پوائنٹ زیرو فورم 2026، جو دنیا کے مرکزی بینکرز، ریگولیٹرز اور مالیاتی رہنماؤں کا ایک نہایت اہم اجتماع ہے، میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی(پی وارا )
کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے مرکزی اسٹیج پر یہ مؤقف پیش کیا کہ مالیاتی نظام کے اصول ازسرِنو طے ہو رہے ہیں، اور پاکستان اِن اصولوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اُنہوں نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “مالیاتی نظام اب سافٹ ویئر اور بلاک چین کے ذریعے خودکار ہوتا جا رہا ہے، اور سافٹ ویئر سرحدوں کو نہیں مانتا۔ ہم پیسے کو ہمیشہ ایک ایسی چیز سمجھتے آئے ہیں جس پر صرف ریاست کا اختیارہوتا ہے۔ ایک پرچم، ایک سرحد، ایک کرنسی۔ وہ دور اب ختم ہو رہا ہے۔”
یہ پیغام اُس کمرے میں دینا غیرمعمولی تھا جس میں وہ لوگ بیٹھے تھے جو ایک نسل سے دنیا کے پیسے کا نظم چلا رہے ہیں۔ اور بلال بن ثاقب نے یہ بات دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ایسٹ مارکیٹوں میں سے ایک کے نمائندے کی حیثیت سے کی۔
اُنہوں نے فورم کے پینل “Unchaining Tokenized Money: Stablecoins, CBDCs, and the Race for Scale” میں شرکت کی، جس کی نظامت سینٹرل بینکنگ پبلیکیشنز نے کی۔ اِس موقع پر اُن کے ہمراہ جنوبی افریقہ کے ریزرو بینک کی ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مامفو موڈیسے بھی موجود تھیں۔ نشست میں اِس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ٹوکنائزڈ منی کہاں زیرِ استعمال آ چکی ہے، اِسے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے کون سی رکاوٹیں روک رہی ہیں، اور ریگولیٹرز، بینک اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے سی بی ڈی سیز(CBDC)، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کیسے قائم کر سکتے ہیں۔
اُن کا مؤقف دوٹوک تھا۔ جن ممالک میں لاکھوں افراد پہلے ہی ڈیجیٹل اثاثے استعمال کر رہے ہیں، وہاں سوال یہ نہیں رہا کہ اِن کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اِس پر خودمختار ہونا چاہیے یا اِسے دوسروں کے حوالے کر دیا جائے۔
“پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے پاکستان فرسٹ حکمتِ عملی اپنا رہا ہے،” اُنہوں نے کہا۔ “ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کو ٹوکنائزڈ فنانس کے اصول طے کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ کہیں اور بنایا گیا ڈھانچہ بس ورثے میں قبول کر لینا چاہیے۔”
“وہ ممالک کامیاب ہوں گے جو ایک واضح بات کھل کر کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں: یہ ہو چکا ہے، ہمارے لوگ پہلے ہی یہاں موجود ہیں،” اُنہوں نے مزید کہا۔ “ہماری ذمہ داری معاشی جدت کو روکنا نہیں، بلکہ اِس کا بہتر نظم و نسق کرنا ہے۔”
مزیدپڑھیں:حکومت پٹرولیم کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، جے یو آئی
مرکزی اسٹیج کے علاوہ، بلال بن ثاقب نے کئی اعلیٰ سطح، صرف دعوت پر مبنی نشستوں میں بھی شرکت کی، جنہوں نے پاکستان کو سنگاپور، جاپان، فلپائن، خلیجی خطے اور یورپ کے مرکزی بینکرز اور مالیاتی رہنماؤں کے ساتھ براہِ راست گفتگو میں شامل کیا، جہاں دنیا کے بڑے بینک اور نمایاں ڈیجیٹل ایسٹ ادارے بھی موجود تھے۔ اِن نشستوں میں وہی سوال زیرِ بحث رہا جو آج ہر ترقی پذیر معیشت کو درپیش ہے: ڈالر میں طے شدہ ٹوکنائزڈ منی کی افادیت سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے، بغیر اِس کے کہ مالیاتی خودمختاری، ادائیگی کے نظام پر کنٹرول، یا اپنے مالیاتی بہاؤ پر نظر سے دستبردار ہونا پڑے۔
پاکستان دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ایسٹ مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ چین اینالسز کے 2025 گلوبل کرپٹو ایڈاپشن انڈیکس میں پاکستان عوامی سطح پر کرپٹو اپنانے کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، صرف بھارت اور امریکہ کے بعد۔ اِس کی وجوہات میں ایک نوجوان، موبائل فرسٹ آبادی، دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر معیشتوں میں سے ایک، سالانہ 38 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر، اور مہنگائی کے خلاف تحفظ کے لیے اسٹیبل کوائنز کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔ پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثے کسی ضابطے کے نتیجے میں نہیں اپنائے۔ اِس نے پہلے اپنائے، اور اب اُن کے مطابق ضوابط تشکیل دے رہا ہے۔
پوائنٹ زیرو فورم، جو اب اپنے پانچویں سال میں ہے، گلوبل فنانس اینڈ ٹیکنالوجی نیٹ ورک اور سوئٹزرلینڈ کے اسٹیٹ سیکریٹریٹ فار انٹرنیشنل فنانس کے زیرِ اہتمام، بی آئی ایس انوویشن ہب، مانیٹری اتھارٹی آف سنگاپور اور سوئس نیشنل بینک کے تعاون سے منعقد ہونے والا سالانہ پالیسی و ٹیکنالوجی اجتماع ہے۔ 2026 کا ایڈیشن کانگریس ہاؤس زیورخ میں منعقد ہوا اور اِس میں دو ہزار سے زائد مرکزی بینکرز، ریگولیٹرز، پالیسی ساز اور صنعتی رہنماؤں نے شرکت کی۔
پی وارا پاکستان میں ورچوئل ایسٹ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس دینے اور اُن کی نگرانی کی ذمہ دار وفاقی اتھارٹی ہے












ہفتہ 27 جون 2026 