کمپنی کو ‘بریک اَپ’ کرانے والے افسر کی تلاش، تنخواہ 8 لاکھ روپے سے زائد

Calender Icon ہفتہ 27 جون 2026

دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ(Onlinedating) کی سہولت فراہم کرنے والے ایک عالمی پلیٹ فارم نے ایک منفرد ملازمت کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔

کمپنی نے ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جس میں منتخب شخص کو لوگوں کے رشتے ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ اس منفرد عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 3 ہزار امریکی ڈالر یعنی 8 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق چیف بریک اپ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ لوگوں کی جانب سے ان کے تعلقات کو باوقار اور ہمدردانہ انداز میں ختم کرنے میں مدد کرے۔ اس ملازمت کے لیے ایسے امیدوار کی تلاش کی جا رہی ہے جس میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی مہارت اور جدید دور کے تعلقات کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ ہو۔

اس شخص کو ان افراد کی طرف سے فون یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے رشتہ ختم ہونے کا پیغام دینا ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہو لیکن خود یہ مشکل گفتگو کرنے سے گریز کر رہے ہوں۔

اس عہدے کی ایک دلچسپ شرط یہ بھی ہے کہ امیدوار اپنی زندگی میں کم از کم تین بریک اپس کا تجربہ رکھتا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد تعلقات کے جذباتی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ملازمت میں مختلف کیسز کا جائزہ لینا اور یہ اندازہ لگانا بھی شامل ہوگا کہ علیحدگی کا معاملہ آسان ہے، پیچیدہ ہے یا انتہائی مشکل۔

کمپنی کے مطابق اس نئی سروس کا مقصد لوگوں کو بغیر کسی وضاحت کے اچانک تعلق ختم کرنے، یعنی ”گھوسٹنگ“، کے رجحان سے بچانا ہے۔

کمپنی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ملینیئل نسل کے 84 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے ہی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں رشتہ ختم کرنے کے بجائے دوسرا فریق خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ رشتے کا اختتام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اس کی شروعات، اس لیے لوگوں کو مناسب انداز میں اختتام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

کمپنی کی ڈیٹنگ ماہر جیمی برونسٹین کے مطابق اگرچہ بہتر یہی ہے کہ دونوں افراد خود ایک دوسرے سے بات کریں، لیکن کئی بار مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کسی ذریعے سے واضح پیغام پہنچ جانا زیادہ مناسب ہوتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کو غیر یقینی صورتحال میں نہ رہنا پڑے۔

مزیدپڑھیں:ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی سالانہ فیس میں اضافہ

دوسری جانب تعلقات کے ماہرین اس خیال پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بریک اپ صرف ایک اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا، دوسرے شخص کے جذبات کو سمجھنا اور تعلق کے اچھے یا برے پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی شامل ہوتا ہے، کسی تیسرے شخص کے ذریعے رشتہ ختم کرانا اس جذباتی ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی تعلق میں جذباتی تشدد، دھونس یا سلامتی کے حقیقی خدشات موجود ہوں تو ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی مدد لینا مناسب ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہر مشکل گفتگو دوسروں کے سپرد کرنے لگیں تو وہ اپنی بات مؤثر انداز میں کرنے اور تعلقات کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی خدمات بڑھانے کے بجائے لوگوں کو بہتر ابلاغ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے کی ہے۔

یہ نئی ملازمت اگرچہ غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔