بی بی سی کی رپورٹ پر شدید تنقید، دہشت گرد تنظیم کے لیے نرم اصطلاحات کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے

Calender Icon اتوار 28 جون 2026

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی(bbc) کی ایک حالیہ رپورٹ پر سخت تنقید سامنے آئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رپورٹ کے اسلوب، زبان اور ادارتی انداز نے صحافتی غیرجانبداری، اخلاقی ذمہ داری اور دہشت گردی سے متعلق عالمی معیارات پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں عالمی سطح پر کالعدم اور دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم کے لیے بار بار “شدت پسند” اور “عسکریت پسند” جیسی نسبتاً نرم اصطلاحات استعمال کی گئیں، جبکہ “دہشت گرد” کی اصطلاح سے گریز کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے حساس معاملے میں الفاظ صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ عوامی تاثر اور بیانیے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر نیویارک، لندن، پیرس یا میڈرڈ جیسے شہروں میں حملے کرنے والوں کو واضح طور پر دہشت گرد کہا جاتا ہے تو پھر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والی تنظیموں کے لیے مختلف اور نرم زبان کیوں اختیار کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل دوہرے معیار کا تاثر دیتا ہے اور پاکستانی شہریوں کی قربانیوں کو مطلوبہ اہمیت نہیں دیتا۔

مزیدپڑھیں:جعلی اور غیر معیاری دوا کی تصدیق کیسے کریں؟ آسان طریقہ

بیان میں یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ رپورٹ میں دہشت گرد تنظیم کے ارکان کے لیے احترام آمیز اندازِ بیان اور مسلسل “اُنہوں نے” یا “اُن” جیسے الفاظ استعمال کیے گئے، جبکہ ان کے حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں، بچوں، خواتین، سیکیورٹی فورسز، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے مؤقف اور قربانیوں کو محدود انداز میں پیش کیا گیا۔

ناقدین کے مطابق صحافت میں غیرجانبداری ضروری ہے، تاہم غیرجانبداری کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گرد اور متاثرہ فریق کو یکساں انداز میں پیش کیا جائے یا دہشت گردی کی شدت کو نرم الفاظ کے ذریعے کم کر کے دکھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کو اس کی اصل نوعیت کے مطابق بیان کیا جائے اور متاثرین کی آواز کو مرکزی حیثیت دی جائے۔

تنقید میں مزید کہا گیا کہ رپورٹ میں کالعدم تنظیم کی اندرونی سیاست، قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور اختلافات پر غیرمعمولی تفصیل فراہم کی گئی، جبکہ اس تنظیم کے مبینہ حملوں، پاکستان میں ہونے والی جانی و مالی تباہی، ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں اور ریاست کی طویل انسدادِ دہشت گردی مہم کو وہی اہمیت نہیں دی گئی۔ ناقدین کے مطابق اس اندازِ رپورٹنگ سے ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے متاثرین کے بجائے دہشت گرد تنظیم کی داخلی کہانی کو زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔

بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے، جہاں ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اس تناظر میں کسی بھی بین الاقوامی رپورٹنگ میں ان قربانیوں اور متاثرین کے نقطۂ نظر کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ دار صحافت کے تقاضوں کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کو واضح طور پر دہشت گرد قرار دیا جائے، دہشت گردی کے متاثرین کی آواز کو ترجیح دی جائے اور رپورٹنگ میں ایسا کوئی تاثر پیدا نہ ہونے دیا جائے جو دہشت گردی کی سنگینی یا پاکستان کی مسلسل قربانیوں کو کم تر ظاہر کرے۔

link