وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ (Atatarar)نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت بخشی ہے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی قانونی حیثیت مسلمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، اس لیے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:PTA وارننگ، واٹس ایپ کے لاکھوں اکاؤنٹس کو خطرہ
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کے انعقاد سے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملی ہے بلکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے بیانیے کو بھی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔












پیر 29 جون 2026 