35 ڈگری درجہ حرارت یورپ کیلئے جان لیوا اور پاکستان کیلئے معمولی کیوں؟

Calender Icon منگل 30 جون 2026

35 ڈگری درجہ حرارت پاکستانیوں یا جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی عوام کیلئے زیادہ گرم نہیں ہوتا لیکن یورپ (Euproe)میں یہ درجہ حرارت 4 سے 5 دنوں میں ایک ہزار جانیں نگل چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی درجہ حرارت الگ الگ خطوں میں مخلتف محسوس کیوں ہوتا ہے۔

اصل میں یورپ کے بیشتر ممالک تاریخی طور پر ٹھنڈے موسم کے عادی رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے لوگ سالہا سال شدید گرمی میں رہتے ہیں، اس لیے ان کا جسم زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کا عادی ہوتا ہے۔ یورپ میں نسبتاً ٹھنڈا موسم رہتا ہے، اس لیے اچانک 35 ڈگری یا اس سے زیادہ درجہ حرارت جسم پر زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔

یورپ میں حالیہ ہیٹ ویوز کے دوران راتیں بھی غیر معمولی حد تک گرم رہتی ہیں جس سے جسم کو ٹھنڈا ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ مسلسل کئی دن اور رات گرمی رہنے سے ہیٹ اسٹریس اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یورپ میں زیادہ تر عمارتیں گرمی کو اندر محفوظ رکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ سردیوں میں حرارت برقرار رہے۔ گرمیوں میں یہی خصوصیت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور گھروں کے اندر درجہ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ جنوبی ایشیا میں کئی عمارتوں میں نسبتاً بہتر ہوا داری، چھتوں کے مختلف ڈیزائن اور گرمی سے نمٹنے کے روایتی طریقے موجود ہوتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:آئی پی ایل کے اسٹار کھلاڑی کیخلاف گھریلو ملازم پر تشدد کا مقدمہ درج

یورپ میں 35 ڈگری کئی علاقوں کے لیے غیر معمولی درجہ حرارت ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کے بہت سے علاقوں میں یہ معمول کا موسم ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں کا انفراسٹرکچر، صحت کا نظام اور عوامی تیاری گرمی کے مطابق زیادہ ڈھلی ہوئی ہے۔

مزید برآں درجہ حرارت کے ساتھ نمی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر نمی زیادہ ہو تو پسینہ آسانی سے بخارات نہیں بنتا، جس سے جسم کو ٹھنڈا ہونے میں دشواری ہوتی ہے اور گرمی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ بعض یورپی ہیٹ ویوز میں نمی بھی زیادہ ہوتی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں بعض علاقوں میں خشک گرمی ہوتی ہے اور بعض میں مرطوب؛ اس لیے احساسِ گرمی جگہ کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔