فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس اصلاحات ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں عالمی کیس سٹڈی کے طور پر پیش

Calender Icon جمعہ 17 اکتوبر 2025

واشنگٹن:ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کامیاب ٹیکس اصلاحات کو عالمی کیس سٹڈی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، سیکرٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی براہ راست رہنمائی میں ایف بی آر نے حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ادارہ جاتی اصلاحات کیں۔ ان اصلاحات میں ٹیکس نظام کو افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے تینوں پہلوؤں سے ازسرنو تشکیل دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقامی طور پر تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی مکمل حمایت سے کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔ یہ منصوبہ ریونیو ایڈمنسٹریشن میں نمایاں بہتری لا رہا ہے اور معیشت کے بنیادی اشاریوں پر مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اصلاحات پائیدار اور طویل المدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد بنیں گی۔

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ پاکستان نے مالی سال 2023-24 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8.83 فیصد سے بڑھا کر مالی سال 2024-25 میں 10.33 فیصد کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو گزشتہ 23 سالوں میں سب سے زیادہ سالانہ اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی شفافیت، کارکردگی اور کمپلائنس پر مبنی مقامی اصلاحاتی منصوبے کا نتیجہ ہے۔ ایف بی آر کی تبدیلی کا سفر 2024 میں آٹھ ہفتوں پر مشتمل منصوبہ بندی سے شروع ہوا، جس میں خصوصی ڈیلیوری یونٹ اور فیلڈ افسران کی رائے شامل تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن واحد حل نہیں، بلکہ پائیدار تبدیلی کے لیے سٹرکچرل اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اجلاس میں ایف بی آر نے نیا ڈیجیٹل ٹیکس پلیٹ فارم IRIS 3.0 بھی متعارف کرایا، جو خودکار طریقے سے کام کرتے ہوئے ریٹرن فائلنگ کو مزید آسان بنائے گا۔ ایف بی آر کے مطابق، اصلاحات کی کامیابی ٹیکنالوجی کو عمل اور نظم و نسق کی بہتری کے ساتھ جوڑنے میں مضمر ہے۔

مصر کے وزیر خزانہ احمد کوچوک نے پاکستان کی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دس سالہ تجربے میں ایسی مؤثر پریزینٹیشن نہیں دیکھی۔ انہوں نے اس کامیابی کو منصوبے کی مقامی نوعیت اور حکومتی شعبوں کی جامع حمایت کا مرہون منت قرار دیا۔ ورلڈ بینک کے ریجنل ڈائریکٹر سندیپ مہاجن نے کہا کہ پاکستان کی کیس اسٹڈی پبلک سیکٹر میں تبدیلی کی کامیاب مثال کے طور پر دنیا بھر میں پیش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مقامی وسائل کو ریونیو موبلائزیشن کے لیے استعمال کا تجربہ جنوبی ممالک کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔

اجلاس میں شرکاء نے اصلاحات کے نفاذ میں درپیش چیلنجز اور سیاسی و انتظامی پیچیدگیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایف بی آر کے مطابق، وزیراعظم کی قائدانہ صلاحیت، وزیر خزانہ اور کابینہ کی ہم آہنگی ان اصلاحات کی کامیابی کے بنیادی عناصر رہے ہیں۔

یہ اصلاحات نہ صرف پاکستان کے ٹیکس نظام کو مضبوط کر رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک رول ماڈل کے طور پر بھی ابھر رہی ہیں۔