اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک حالیہ ٹویٹ میں دہشت گردی کی جنگ کو بھارت، افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مل جل کر مسلط کی گئی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا ہے، اور پانچ سال کی مسلسل کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں، جن میں شہدا ءسول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2021 سے اب تک 3844 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا ہے، جو اس دہشت گردی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر دفاع نے افغان طالبان رجیم کے قیام کے بعد پاکستان کی سفارتی اور عملی کوششوں کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق، پاکستان نے 13 مرتبہ افغانستان کو ڈیمارش بھیجا، 225 بار سرحدی فلیگ میٹنگز منعقد کی گئیں، اور 836 احتجاجی مراسلے بھیجے گئے۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایک مرتبہ کابل گئے، جبکہ جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کی 8 بار میٹنگز ہوئیں۔ نمائندہ خصوصی نے 5 دورے کیے، سیکرٹری نے بھی 5 بار کابل کا سفر کیا، وزیر خارجہ نے 4 مرتبہ دورہ کیا، اور وزیر دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی نے 2 مرتبہ کابل کا دورہ کیا۔
خواجہ آصف کا یہ بیان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے، جہاں وہ بھارت اور افغان عناصر کی مبینہ ملی بھگت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو توڑنے اور بین الاقوامی برادری کے یقین دہانیوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔












جمعہ 17 اکتوبر 2025 