چینی اور بھارتی ہیکرز نے پاکستانی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو نشانہ بنایا، رپورٹ

Calender Icon جمعہ 10 جولائی 2026

اسلام آباد ، خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا کہ سینٹینل ون کی رپورٹ کے مطابق ان سائبر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی عناصر پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، جن میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں، افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور چین کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعاون سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سینٹینل ون کے پرنسپل تھریٹ(Principle Threat) ریسرچر الیگزاندر میلینکوسکی نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک بلاگ میں لکھا کہ جب ایک ہی ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے متعدد سائبر جاسوسی گروپوں کا ہدف بنیں تو یہ خود اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ان اداروں کی معلومات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے حکومت کی داخلہ سلامتی کی صورتحال، ملک کے اندر موجود خطرات سے متعلق معلومات اور ان خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنے پاس رکھتے ہیں، اسی لیے وہ سائبر جاسوسی کرنے والے گروپوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نشانہ بنائے جانے والے ادارے داخلی اور بیرونی خطرات کی نگرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سینٹینل ون کا کہنا ہے کہ اسے فروری 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان چین اور بھارت سے منسلک ہیکنگ گروپوں کی متعدد سائبر حملوں اور دراندازیوں کے شواہد ملے ہیں۔

ان حملوں کا سب سے نمایاں ہدف بلوچستان پولیس تھی، جو صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی ذمہ دار ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو چانگ نے ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ چین اپنے قانون کے مطابق ہر قسم کے سائبر حملوں کی سخت مخالفت کرتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کسی بھی ملک یا فرد کو اپنی سرزمین یا چینی انفراسٹرکچر استعمال کرتے ہوئے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔

واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے رپورٹ سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی گروپوں کی دلچسپی ممکنہ طور پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سلامتی سے متعلق ہو سکتی ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں متعدد مہلک حملوں میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت سے منسلک ہیکرز گروپوں کی دلچسپی ممکنہ طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی اور پاکستان کی وسیع تر سکیورٹی صورتحال سے متعلق ہو سکتی ہے۔

الیگزاندر میلینکوسکی کے مطابق بلوچستان پولیس کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں نیٹ ورک آلات، ویب سرورز اور متعدد آن لائن ایپلی کیشنز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پولیس کا شکایات کے اندراج اور Complaint Management System بھی شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق دیگر متاثرہ اداروں میں خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی Punjab Safe Cities Authority شامل ہیں، جو پنجاب کے بڑے شہروں میں پولیس کے زیر استعمال نگرانی اور سکیورٹی نظام چلاتی ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے سسٹمز کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ پولیس کے کسی بنیادی نظام، نیٹ ورک یا اہم ایپلی کیشن کو کامیابی سے ہیک کیا گیا ہو۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس کٹوتی کا نیا اور آسان نظام نافذ

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران سائبر حملوں کی کوششوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، تاہم صرف ایک الگ واقعے میں ایک صارف کے Login Credentials متاثر ہوئے تھے۔اسلام آباد پولیس، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔