ماریہ شہباز کیس، حقائق مسخ کیے گئے، پاکستان کا یورپی پارلیمنٹ کے مؤقف پر اعتراض

Calender Icon جمعہ 10 جولائی 2026

اسلام آباد: ماریہ شہباز کیس کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی حالیہ قرارداد کے بعد پاکستان کے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے سے متعلق بعض حلقوں نے حقائق کو مسخ کر کے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق فیصل آباد کی رہائشی ماریہ شہباز(maria shahbaz) نے 28 اپریل 2020 کو اپنی مرضی سے گھر چھوڑا اور محمد نقاش نامی نوجوان کے ساتھ شادی کر لی۔ بعد ازاں ان کی والدہ کی درخواست پر مدینہ ٹاؤن تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 3 جولائی 2020 کو ماریہ شہباز اور محمد نقاش نے خود ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فیصل آباد کی عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ انہوں نے باہمی رضامندی سے شادی کی ہے۔ مقدمے کے فیصلے تک عدالت نے ماریہ کو دارالامان منتقل کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں محمد نقاش نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ نے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا اور قانونی طور پر ان سے شادی کی ہے۔ عدالت کے روبرو ماریہ شہباز نے بھی اپنے بیان میں اسی مؤقف کی تصدیق کی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 4 اگست 2020 کے فیصلے میں مقدمہ خارج کرتے ہوئے ماریہ کو اپنی مرضی کے مطابق شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عدالتی کارروائی کے دوران ماریہ کی عمر سے متعلق پیش کیے گئے بعض دستاویزات میں تضادات سامنے آئے، جبکہ طبی معائنے اور دیگر شواہد کی بنیاد پر عدالت کے سامنے یہ مؤقف آیا کہ وہ بالغ تھیں۔ اس بنیاد پر عدالت نے انہیں اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے اور شادی کرنے کا حق تسلیم کیا۔

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس نے والدہ کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کیا، تحقیقات کیں اور عدالت نے بھی حتمی فیصلے سے قبل ماریہ کو حفاظتی تحویل میں رکھا، جس سے قانونی کارروائی میں کسی مذہبی امتیاز کا ثبوت نہیں ملتا۔

بیان کے مطابق بعض غیر سرکاری تنظیموں اور مفاداتی حلقوں نے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور یورپی پارلیمنٹ کے بعض اراکین کو گمراہ کن معلومات فراہم کیں، جس کے نتیجے میں حالیہ قرارداد منظور کی گئی۔ پاکستان نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں کے فیصلے شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیے گئے اور اس مقدمے میں بھی عدالتی ریکارڈ حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:شہباز شریف، صدر پزشکیان کاٹیلیفونک رابطہ؛ خطے میں امن و تحمل پر زور

بیان میں توہینِ مذہب سے متعلق قوانین پر بھی مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ 2005 کے بعد اس قانون کے تحت سزا پانے والوں کی اکثریت مسلمان ہے، اس لیے اسے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا ذریعہ قرار دینا درست نہیں۔