امریکا کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ روانہ

Calender Icon جمعہ 14 اگست 2026

امریکی بحریہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن(USS George Washington) کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

یہ جہاز خطے میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے گا، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے خطے میں تعینات ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی یہ تعیناتی اور بحری جہازوں کی تبدیلی کا منصوبہ حالیہ صورتحال اور ابراہم لنکن کے عملے کو درپیش مشکلات سامنے آنے سے پہلے ہی تیار کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حالات میں اس تبدیلی نے امریکی بحریہ کے طویل عرصے تک سمندر میں رہنے والے جنگی جہازوں اور ان کے عملے پر پڑنے والے دباؤ کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 200 دن سے کسی بندرگاہ پر نہیں رکا۔ عام طور پر ایسے طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے تقریباً 30 سے 45 دن کے وقفے کے بعد بندرگاہ پر قیام کی توقع کی جاتی ہے، تاہم ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے باعث لنکن کی تعیناتی غیر معمولی طور پر طویل ہوگئی ہے۔

مزیدپڑھیں:صدر نے ہزار سے زائد اہلکاروں کے لیے فوجی اعزازات، قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کی منظوری دیدی

امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن اس وقت تک مغربی بحرالکاہل میں سرگرم تھا اور حال ہی میں ویتنام کے دورے پر بھی گیا تھا۔ اس کے بعد یہ جہاز مغرب کی جانب روانہ ہوا اور آبنائے ملاکا سے گزرتے ہوئے بحر ہند اور پھر مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ آمد سے امریکی بحریہ کو خطے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کو طویل تعیناتی کے بعد نسبتاً آرام اور بحالی کا موقع مل سکتا ہے۔

طیارہ بردار بحری جہاز امریکی بحریہ کی اہم ترین جنگی صلاحیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پر بڑی تعداد میں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز موجود ہوتے ہیں، جبکہ یہ جہاز طویل فاصلے تک امریکی فوجی کارروائیوں اور فضائی آپریشنز کے لیے موبائل بحری اڈے کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔

یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی تعیناتی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور کشیدگی جاری ہے۔ اس لیے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی خطے کی جانب پیش قدمی کو آئندہ فوجی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔