اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے معاملے پر حکومت سے اہم سوالات پوچھ لیے۔
اکبر ایس بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے آئی پی پیز کے معاہدے کیے گئے تھے، تاہم یہ معاہدے حقیقت میں عوام اور ملکی معیشت کے گلے کا طوق بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ اب بجلی کی ترسیل اور تقسیم کرنے والی سرکاری کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی نجکاری کی بات کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد خسارے میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کا بوجھ کم کرنا اور معیشت و عوام کو ریلیف دینا بتایا جا رہا ہے۔
اکبر ایس بابر نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر نجکاری کا مقصد سرکاری کمپنیوں کا نقصان کم کرنا ہے تو پھر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی بجلی کمپنیوں، آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری سب سے پہلے کیوں کی جا رہی ہے؟
انہوں نے حکومت سے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ نجکاری کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی یا عوام کو مزید مہنگی بجلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اکبر ایس بابر نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نجکاری مکمل ہونے سے پہلے ان معاہدوں کو عوام کی جانچ پڑتال کے لیے منظرعام پر لانے کا ارادہ رکھتی ہے یا ماضی کے آئی پی پیز معاہدوں کی طرح عوام کو بھی ’’خفیہ معاہدوں‘‘ کی بھینٹ چڑھایا جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں کے تجربے کے بعد عوام کسی بھی نئے معاہدے کے معاملے میں سوالات اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔
اکبر ایس بابر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔‘‘













ہفتہ 22 اگست 2026 

