اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلباء کے احتجاج کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے، جہاں فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص کی جانب سے فائرنگ(firing) کی گئی ہے۔
طلباء کے مطابق، واقعے کی شروعات اس وقت ہوئی جب یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اپنے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ ایچ آر مینیجر کے مبینہ تنازع اور نامناسب رویے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
طلباء کے مطابق وہ اپنے استاد کے ساتھ ہونے والی مبینہ بدسلوکی پر ”جسٹس فار سر“ کے بینرز اٹھائے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران مبینہ خاتون ایچ آر مینیجر اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کو بلایا جو کہ ایک آرمی افسر ہیں۔
Listen carefully to what the students are actually saying in this video from Sarhad University in Islamabad.
They were not protesting randomly. They were standing up for their teacher, Dr. Jadoon Khan, the Head of Department. According to them, the HR manager, a woman, had abused… https://t.co/OR2LZMjfa2— Blunt (@Shinamuller) August 24, 2026
یونیفارم میں ملبوس مبینہ افسر کے پہنچنے پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور دونوں اطراف سے ہاتھا پائی کے بعد افسر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اپنے پستول سے ہوائی فائرنگ کی۔ اس دوران پولیس کو بیچ بچاؤ کراتے بھی دیکھا گیا۔
مزیدپڑھیں:وزیراعظم سے وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ملاقات ، صوبہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
سینیئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی pic.twitter.com/Hzq6vPFjOz
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 24, 2026
اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے موقع پر پہنچ کر طلباء کو افسر کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ مذکورہ شخص بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز ہے۔
🚨سرحد یونیورسٹی معاملے میں اہم پیش رفت
پولیس نے بریگیڈیئر کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی، طلبہ کو ہر قسم کی قانونی کارروائی کی یقین دہانی۔ https://t.co/YqMHMMknIf pic.twitter.com/AWnlmVLHh4
— Mahrosh Pervaiz (@MahroshPervaiz1) August 24, 2026
کیمپس میں موجود طلباء کا موقف ہے کہ وہ اپنے استاد پر مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔













پیر 24 اگست 2026 

