آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ پر مسلم لیگ (ن) میں اختلافات

Calender Icon جمعرات 27 اگست 2026

پاکستان مسلم لیگ (ن) (PML-N) کے اندر آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے نئے وزیرِاعظم کے انتخاب پر اختلافات سامنے آگئے ہیں اور پارٹی بظاہر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے نامزد امیدوار شاہ غلام قادر کو آخری وقت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ انتخابات میں شکست کے باوجود ٹیکنوکریٹ نشست پر ایوان میں پہنچنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی اچانک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آگئے ہیں اور انہیں سیاسی حلقوں میں ’’ڈارک ہارس‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کی رات گئے شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو بیرسٹر افتخار گیلانی کی قیادت قبول کرنے اور ان کی وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم دونوں رہنماؤں نے ان کی حمایت سے انکار کردیا۔

دوسری جانب بیرسٹر افتخار گیلانی کے حامی ارکان اسمبلی بھی متحرک ہوگئے ہیں اور پارٹی کے اندر ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے تیز کردیئے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے اندر واضح تقسیم پیدا ہوگئی ہے، جہاں ایک گروپ افتخار گیلانی کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے جبکہ دوسرا شاہ غلام قادر کی حمایت پر قائم ہے۔

شاہ غلام قادر کو آخری وقت میں مشکلات

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ غلام قادر کو ابتدا میں آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کا امیدوار سمجھا جارہا تھا، تاہم اب انہیں پارٹی کے اندر ہی سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بیرسٹر افتخار گیلانی نے انتخاب ہارنے کے باوجود ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جگہ بنائی، جس کے بعد ان کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے اچانک نمایاں ہوگیا۔

پارٹی کے اندر جاری اختلافات نے حکومت سازی کے عمل کو بھی متاثر کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے لیے نئے وزیرِاعظم کے انتخاب سے قبل ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کرنا اہم مرحلہ بن گیا ہے۔

اہم اسمبلی اجلاس ملتوی

مسلم لیگ (ن) کے اندر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار پر پیدا ہونے والے اختلافات اور سیاسی کشیدگی کے باعث آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اہم اجلاس بھی ملتوی کردیا گیا، جو جمعرات کو شیڈول تھا۔

اجلاس کے ملتوی ہونے سے وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کا معاملہ مزید ایک دن آگے چلا گیا اور پارٹی قیادت کو اندرونی اختلافات ختم کرنے کے لیے مزید وقت مل گیا۔

افتخار گیلانی کو نامزد کرنے کا فیصلہ

اس سے قبل ایک اہم پیش رفت میں حکومت نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کا نیا وزیرِاعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزیدپڑھیں:فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران ٹرمپ یا امریکی نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا: دفترِ خارجہ

یہ فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر اور آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے شرکت کی۔

مشاورت کے بعد افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ سامنے آیا، تاہم پارٹی کے اندر بعض اہم رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے کی حمایت نہ کیے جانے سے صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔

وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب 28 اگست کو ہوگا

آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِاعظم کے انتخاب کا شیڈول بھی ایک روز آگے کردیا گیا ہے۔ اب نئے وزیرِاعظم کا انتخاب 28 اگست کو ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کو ایوان میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے پارٹی کے اندر موجود اختلافات ختم کرکے ارکان کو ایک امیدوار پر متفق کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر کے درمیان حمایت حاصل کرنے کی دوڑ پارٹی کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت کے خدوخال کے لیے بھی انتہائی اہم ہوگئی ہے۔

اگر پارٹی قیادت بروقت اختلافات ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کے مرحلے پر مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔