اگر پمز میں اے آئی کیمرے ہوتے تو 14 بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، شبر زیدی

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

اسلام آباد: سابق چیئرمین ایف بی آر اور ممتاز معاشی ماہر شبر زیدی نے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے بچوں کی اموات کے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہسپتال میں جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کیمرے نصب ہوتے تو 14 معصوم بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ میں خود دو ہسپتال چلاتا ہوں اور وہاں کے سیکیورٹی و مانیٹرنگ سسٹم میں جدید اے آئی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ جیسے ہی کسی بھی وارڈ یا شعبے میں کوئی غیر معمولی واقعہ، کوتاہی یا ایمرجنسی صورتحال پیدا ہوتی ہے، یہ کیمرے فوری طور پر اسے ڈیٹیکٹ (پک) کر لیتے ہیں اور انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پمز جیسے ملک کے بڑے اور سرکاری ہسپتال میں اس طرح کی جدید مانیٹرنگ سہولت کا نہ ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر وہاں یہ جدید ٹیکنالوجی موجود ہوتی تو 14 بچوں کی اموات کا اتنا بڑا اور دردناک واقعہ ہرگز نہ پیش آتا، کیونکہ غیر معمولی صورتحال کا بروقت علم ہونے سے فوری طبی امداد فراہم کی جا سکتی تھی۔

شبر زیدی نے سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی امور اور مانیٹرنگ کے ڈھانچے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے مقابلے میں سرکاری ہسپتالوں میں جدید ترین نظام کا عدم وجود انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے حکومت اور طبی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں فوری طور پر جدید اے آئی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات اور غفلت کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔