قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ پر بین الاقوامی کرکٹرز حیران: ‘میدان سے زیادہ باہر ڈراما چل رہا ہے’

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سمیت میچز میں مسلسل ناکامیوں اور ناقص کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم اور مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔

کرکٹ بورڈ کے اس اچانک اور سخت فیصلے پر عالمی اور قومی کرکٹ حلقوں میں شدید حیرت اور ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انگلینڈ کے سابق اسٹار بلے باز کیون پیٹرسن نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں پاکستان کے بارے میں یہ کیا پڑھ رہا ہوں کہ اتنی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کھلاڑیوں کو گھر واپس بھیجا جا رہا ہے، یہ یقیناً سچ نہیں ہو سکتا۔“


اسی طرح پاکستان کے سابق کپتان اظہر علی نے مختصر ردِعمل دیتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک قرار دیا۔


معروف بھارتی کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”پاکستان کرکٹ سے ہی ایسی ناقابلِ یقین باتوں کی توقع کی جا سکتی ہے، جہاں سلمان آغا پہلے ٹیسٹ میں کپتان تھے، دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ ہوئے اور تیسرے سے پہلے گھر بھیج دیے گئے، جبکہ کوچ اور بالنگ کوچ کو سیریز کے درمیان ہی فارغ کر دیا گیا۔“


ان کا مزید کہنا تھا کہ سینئر وکٹ کیپر کو واپس بھیج دیا گیا اور ان نعم البدل کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جو امید کر رہے ہیں کہ انہیں ٹیسٹ میچ سے پہلے ویزا مل جائے، ہمیشہ کی طرح میدان سے باہر زیادہ ڈرامائی ایکشن جاری ہے۔“

مزیدپڑھیں:نیتن یاہو نے امریکا کو ایران جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کر لیا: عباس عراقچی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی سلیکشن کمیٹی کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ”اس فیصلے کے پیچھے کیا منطق یا دلیل ہے اور جو نعم البدل شامل کیے گئے ہیں ان کی بھی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔“


شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ”یہ کیسی سوچ اور اپروچ ہے کہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں کے بعد کوچ کو ہی فارغ کر دیا جائے، یہ اتنے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کا اب تک کا سب سے زیادہ حیران کن اور غیر منطقی فیصلہ ہے۔“

واضح رہے کہ چھ میں سے پانچ میچوں میں شکست کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بالنگ کوچ عمر گل کو سیریز کے درمیان ہی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جبکہ ایشلے نوفکے کو نیا بالنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انگلینڈ کے خلاف نو ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ میچ کے لیے محمد رضوان، سلمان علی آغا اور امام الحق سمیت سات سینئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ صائم ایوب، عرفات منہاس اور عبداللہ شفیق سمیت سات نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔


ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امام الحق کی انجری کے معاملے پر شکایات سامنے آنے کے بعد بورڈ نے اس کی باقاعدہ تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔