مٹسوبشی (Mitsubishi)نے اپنی مشہور ایس یو وی پجیرو کی پانچویں جنریشن متعارف کرا دی ہے۔ نئی پجیرو کو سات نشستوں والی فلیگ شپ آف روڈ ایس یو وی کے طور پر تیار کیا گیا ہے اور اسے مٹسوبشی ٹرائٹن پک اپ کے مضبوط سیڑھی نما فریم پر بنایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس گاڑی کی فروخت پہلے تھائی لینڈ میں شروع ہوگی، جبکہ جاپان اور آسٹریلیا کی مارکیٹوں میں اسے مارچ 2027 کے اختتام تک متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
اگر نئی پجیرو بھارت میں آتی تو اس کا مقابلہ ٹویوٹا فورچیونر جیسی سات نشستوں والی ایس یو وی سے ہوتا، کیونکہ اس کے سائز، انجن اور آف روڈ صلاحیتیں اسی شعبے سے مطابقت رکھتی ہیں۔
نئی پجیرو کے ڈیزائن میں مٹسوبشی نے پرانے ماڈلز کی شکل کو دہرانے کے بجائے اپنی نئی ایس یو وی ایکس فورس اور ڈیسٹی نیٹر سے متاثر جدید انداز اختیار کیا ہے۔ گاڑی کے اگلے حصے میں چوڑی گرِل، نمایاں وہیل آرچز اور مضبوط نچلا حصہ دیا گیا ہے، جو اسے زیادہ طاقتور اور آف روڈ گاڑی کا تاثر دیتا ہے۔ اونچی سسپنشن، سائیڈ اسٹیپس اور مڈ فلیپس بھی اس کے عملی آف روڈ کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔
نئی پجیرو کی لمبائی 4,920 ملی میٹر، چوڑائی 1,925 ملی میٹر اور اونچائی 1,910 ملی میٹر ہے، جبکہ اس کا وہیل بیس 2,870 ملی میٹر ہے۔ مختلف ویریئنٹس میں 20 انچ تک کے پہیے دستیاب ہوں گے۔ پرانی پجیرو کے برعکس نئی گاڑی میں روایتی ٹیل گیٹ استعمال کیا گیا ہے اور اضافی پہیہ گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا ہے۔
اندر سے پجیرو کو تین قطاروں میں سات افراد کے بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ دوسری قطار کو 150 ملی میٹر تک آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے اور اسے آگے کی طرف فولڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے تیسری قطار میں داخل ہونا آسان ہو جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق سامان رکھنے کے لیے زیادہ جگہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔ گاڑی کی نسبتاً ہموار اور بلند چھت کا مقصد پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافروں کے لیے بہتر ہیڈ روم فراہم کرنا ہے۔
اعلیٰ درجے کے ماڈلز میں لیدر سیٹیں، نرم مواد سے بنا ڈیش بورڈ اور مضبوط گراب ہینڈلز دیے گئے ہیں۔ ڈبل گلیزڈ سائیڈ ونڈوز، ایکوسٹک ونڈ اسکرین، تین زون والا آٹومیٹک کلائمیٹ کنٹرول، پچھلی کھڑکیوں کے دستی سن شیڈز، دوسری قطار کی گرم نشستیں اور سینٹر آرم ریسٹ کے نیچے ٹھنڈا اسٹوریج کمپارٹمنٹ بھی دستیاب ہوگا۔
اعلیٰ ویریئنٹس کے ڈیش بورڈ پر دو 14.3 انچ اسکرینیں دی گئی ہیں، جبکہ نسبتاً کم قیمت والے ماڈلز میں 12.3 انچ کی اسکرینیں استعمال ہوں گی۔ مٹسوبشی نے اہم افعال کے لیے روایتی فزیکل کنٹرولز بھی برقرار رکھے ہیں، جبکہ فور وہیل ڈرائیو کے مختلف موڈز کو کنٹرول کرنے کے لیے روٹری کنٹرولر دیا گیا ہے۔ تینوں قطاروں میں یو ایس بی چارجنگ پورٹس موجود ہیں اور بہتر ویریئنٹس میں 12 اسپیکرز والا یاماھا آڈیو سسٹم بھی پیش کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کا جیل ٹرائل شروع ہونے والا ہے، انسداد دہشتگردی عدالت کا عندیہ
نئی پجیرو میں 2.4 لیٹر، چار سلنڈر ٹربو ڈیزل انجن استعمال کیا گیا ہے، جو مٹسوبشی ٹرائٹن میں بھی دستیاب ہے۔ یہ انجن 204 ہارس پاور اور 480 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔ ٹارک کے لحاظ سے یہ ٹرائٹن کے مقابلے میں 10 نیوٹن میٹر زیادہ ہے۔ انجن کو ایک نئی جنریشن کے آٹھ اسپیڈ آٹومیٹک گیئر باکس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
گاڑی کے ڈھانچے میں ٹرائٹن کے موجودہ سیڑھی نما فریم کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ مٹسوبشی کا کہنا ہے کہ فریم میں زیادہ مقدار میں ہائی ٹینسائل اسٹیل استعمال کرنے سے اس کی مضبوطی میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس سے گاڑی کی پائیداری، سڑک پر کنٹرول اور خراب راستوں پر کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
سسپنشن کے لیے آگے ہائی ماؤنٹڈ ڈبل وش بون اور پیچھے فائیو لنک رِجڈ ایکسل دیا گیا ہے۔ پجیرو میں 230 ملی میٹر گراؤنڈ کلیئرنس ہے، جس کی وجہ سے پتھریلے اور ناہموار راستوں پر گاڑی کے نیچے کا حصہ زمین سے ٹکرانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی کے اپروچ اینگل کو 30.4 ڈگری، بریک اوور اینگل کو 22.6 ڈگری اور ڈپارچر اینگل کو 25.8 ڈگری رکھا گیا ہے۔
نئی پجیرو میں مٹسوبشی کا سپر آل وہیل کنٹرول، یعنی ایس۔ اے ڈبلیو سی معیاری طور پر دیا گیا ہے۔ یہ نظام فور وہیل ڈرائیو کے ساتھ ایکٹو کنٹرول، ٹریکشن اور اسٹیبلٹی کنٹرول اور اے بی ایس کو ملا کر کام کرتا ہے۔
سسٹم ڈرائیور کے ان پٹ اور سڑک کی صورتِ حال کے مطابق مختلف پہیوں تک طاقت اور بریکنگ کو ایڈجسٹ کرتا ہے، جس کا مقصد پھسلن یا ناہموار سطح پر گاڑی کو زیادہ قابو میں رکھنا ہے۔
نئی پجیرو کے ذریعے مٹسوبشی نے ایک بار پھر اپنے معروف آف روڈ نام کو جدید شکل میں واپس لانے کی کوشش کی ہے۔ مضبوط فریم، طاقتور ڈیزل انجن، سات نشستوں والی کشادہ کابین اور جدید فور وہیل ڈرائیو نظام اسے مشکل راستوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ استعمال کے لیے بھی ایک قابلِ توجہ ایس یو وی بناتے ہیں۔ اس کی اصل کارکردگی اور صارفین کا ردعمل تو اس وقت سامنے آئے گا جب یہ مختلف عالمی مارکیٹوں میں باقاعدہ فروخت کے لیے دستیاب ہوگی۔













جمعرات 3 ستمبر 2026 

