بنیادی شہری مسائل کا بروقت حل پہلی ضرورت ہے؟
پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، لیکن ملک اب بھی صرف چار صوبوں کے انتظامی ڈھانچے پر چل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پچیس کروڑ سے زائد آبادی کے لیے یہ انتظامی تقسیم اب بھی مؤثر ہے؟
دوہزار تئیس کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ، خیبرپختونخوا کی 4 کروڑ 9 لاکھ جبکہ بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔
صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات، انفراسٹرکچراور روزگارمسائل؟
یعنی صرف پنجاب کی آبادی تین صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ایک صوبائی حکومت کو بیک وقت کروڑوں شہریوں کے صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات، انفراسٹرکچر اور روزگار جیسے مسائل دیکھنے پڑتے ہیں۔
مسئلہ صرف آبادی کا حجم نہیں، صوبائی دارالحکومتوں تک فاصلے بھی اہم ہیں۔ شہریوں کو اکثر اوقات اپنی شکایات کے ازالے کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی بنیادی ضرورت؟
ورلڈ بینک کی 2026 کی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ 2024 تک مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہا، جبکہ 2005 میں یہ تقریباً 10 فیصد تھا۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کی بحث صرف سیاسی نعرہ نہیں ہونی چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ حکومت شہری کے قریب آئے، فیصلے تیزی سے ہوں اور وسائل ضرورت کے مطابق تقسیم ہوں۔
مزید پڑھیں:نئے صوبوں کے قیام پر سیاست نہیں، سنجیدہ بحث ہونی چاہیے
تاہم صرف صوبے بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر اختیارات اور وسائل دوبارہ صوبائی دارالحکومتوں میں ہی مرتکز رہے تو نئے صوبے بھی پرانا نظام بن جائیں گے۔ اصل ضرورت انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی ہے۔













جمعرات 3 ستمبر 2026 

