بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد ناروے کی شہزادی بھی چل بسیں

Calender Icon ہفتہ 12 ستمبر 2026

ناروے کی شہزادی(Norway) آسٹرڈ 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ آنجہانی بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی بہن تھیں اور اپنے بھائی کی آخری رسومات میں شرکت کے صرف دو دن بعد وفات پا گئیں۔ ناروے کے شاہی محل نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔

ناروے کے نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے شہزادی آسٹرڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی طویل زندگی کے دوران شاہی خاندان کی خدمت گرمجوشی، ذمہ داری اور فرض شناسی کے ساتھ کی۔

بادشاہ ہیرالڈ گزشتہ ماہ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ 35 برس سے زیادہ عرصے تک ناروے کے بادشاہ رہے۔ ان کی آخری رسومات گزشتہ بدھ کو ادا کی گئیں، جن میں شہزادی آسٹرڈ نے شرکت کی تھی۔ یہی تقریب ان کی زندگی کی آخری عوامی مصروفیت ثابت ہوئی۔

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گار ستورے نے کہا ہے کہ شہزادی آسٹرڈ کی تدفین سرکاری اخراجات پر کی جائے گی، جبکہ ملک بھر میں ان کے احترام میں قومی پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔


شہزادی آسٹرڈ ناروے کے آنجہانی بادشاہ اولاف پنجم کی آخری زندہ اولاد تھیں۔ اولاف نے 1957 سے 1991 تک ناروے پر حکمرانی کی تھی۔

شہزادی آسٹرڈ نے صرف 22 برس کی عمر میں ایک اہم عوامی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ 1954 میں ان کی والدہ ولی عہد شہزادی مارٹھا کے انتقال کے بعد وہ ناروے کی خاتونِ اول بنیں۔ بادشاہ اولاف نے دوبارہ شادی نہیں کی، اس لیے آسٹرڈ نے 1968 میں اپنے بھائی ہیرالڈ کی شادی تک یہ ذمہ داری اور لقب برقرار رکھا۔

بادشاہ ہاکون نے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی دیکھ بھال اور انہیں معاشرے میں برابر جگہ دلانا شہزادی آسٹرڈ کے کام کا ایک اہم حصہ تھا۔ انہوں نے طویل عرصے تک مختلف عوامی اور فلاحی سرگرمیوں میں شاہی خاندان کی نمائندگی کی۔


شہزادی آسٹرڈ کی صحت گزشتہ چند ماہ کے دوران خراب رہی تھی۔ مارچ میں انہیں نمونیا کے علاج کے لیے اسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا تھا۔

بادشاہ ہیرالڈ کی آخری رسومات میں یورپ کے کئی شاہی خاندانوں کے افراد اور مختلف ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ ان میں شہزادہ ولیم، شمالی یورپ کے تین بادشاہ اور متعدد دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ ہزاروں افراد نے شاہی محل سے اوسلو کیتھیڈرل تک جانے والے جلوس کے راستے میں کھڑے ہو کر بادشاہ کو الوداع کہا۔

مزیدپڑھیں:حوثیوں اور ایران نواز عراقی گروپ کے حملے، سعودی عرب کی اہم ترین تیل پائپ لائن بند

غیر شاہی شخصیات میں یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی، جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر اور پانچ دیگر ممالک کے وزرائے اعظم بھی شریک ہوئے۔

بادشاہ ہیرالڈ کی زندگی کے آخری مہینوں میں ناروے کے شاہی خاندان کو بعض ذاتی مسائل اور تنازعات کا بھی سامنا رہا۔ رواں سال سامنے آنے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ بادشاہ ہاکون کی اہلیہ ملکہ میٹ میریٹ کے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعدد بار رابطے رہے تھے۔ بعد ازاں ملکہ نے کہا کہ کاش انہوں نے ایپسٹین سے کبھی ملاقات نہ کی ہوتی۔

اسی دوران ان کے بیٹے ماریوس بورگ ہوئیبی کو جون میں زیادتی کے دو مقدمات میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ شاہی خاندان کے رکن نہیں لیکن اسی خاندان میں پلے بڑھے ہیں۔ اب وہ اپیل کا فیصلہ آنے تک گھر میں نظر بندی میں ہیں اور انہیں بادشاہ ہیرالڈ کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔

شہزادی آسٹرڈ کا انتقال ناروے کے شاہی خاندان کے لیے ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خاندان حالیہ عرصے میں مسلسل ذاتی اور عوامی آزمائشوں سے گزر رہا ہے۔ ان کی طویل عوامی زندگی، فلاحی سرگرمیوں اور شاہی خاندان کی نمائندگی میں کردار کے باعث ناروے میں ان کی وفات کو ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔