انگلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پیڈنگٹن میں حکومتی پالیسی کے خلاف انوکھا احتجاج دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کے رہائشیوں نے قریبی فوجی اڈے پر تقریباً 1200 پناہ گزینوں کو رہائش فراہم کرنے کے منصوبے کے خلاف علامتی طور پر برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔
تقریباً 350 افراد پر مشتمل اس گاؤں میں ہونے والے غیر قانونی اور نان-بائینڈنگ ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے مطابق، 285 افراد نے علیحدگی کے حق میں جبکہ صرف 26 افراد نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ اس انوکھے احتجاج کے بعد گاؤں کی پیرش کونسل کے چیئرمین ٹِم میک نیلی نے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ووٹ کے ذریعے خطے، ملک اور پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔ انہوں نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ اب اس گاؤں کو علامتی طور پر ’پرنسپلٹی آف پیڈنگٹن‘ کے نام سے پکارا جائے گا۔
یہ علامتی ریفرنڈم دراصل گاؤں سے تقریباً 0.8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سابق وزارتِ دفاع کے بائسیسٹر اڈے کو مرد پناہ گزینوں کی رہائش گاہ میں تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کے ردعمل میں منعقد کیا گیا۔ دوسری جانب برطانوی حکومت کا اس حوالے سے موقف ہے کہ مجوزہ رہائشی مرکز کو بڑی حد تک خود کفیل رکھنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی پر اس کے ممکنہ اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ علامتی ریفرنڈم قانونی طور پر برطانیہ سے علیحدگی کا باعث نہیں بنے گا، تاہم مقامی رہائشیوں نے اسے حکومتی پالیسی کے خلاف اپنے گہرے تحفظات اور احتجاج کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔













پیر 21 ستمبر 2026 

