امریکہ کا 23 ستمبر کے بعد ایرانی ایئرلائنز کیخلاف عالمی پابندیوں کا اعلان

Calender Icon پیر 21 ستمبر 2026

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک سخت ترین پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آنے والی 23 ستمبر سے دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئر لائنز کا آپریشن مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھانا اور اس کے فضائی روابط کو عالمی سطح پر محدود کرنا ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں اسکاٹ بیسنٹ نے اس فیصلے کے نفاذ کا لائحہ عمل واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی طیارے دنیا کے کسی بھی ملک میں لینڈ کرتے ہیں، تو متعلقہ ائیرپورٹس اور کمپنیاں اس کی پابند ہوں گی کہ وہ انہیں کسی قسم کی خدمات فراہم نہ کریں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان طیاروں کو نہ تو ایندھن فراہم کیا جا سکے گا، نہ ہی لینڈنگ کی کوئی سہولت دی جائے گی اور نہ ہی کوئی ادارہ یا فرد انہیں ٹکٹیں فروخت کرنے کا مجاز ہوگا۔

امریکی وزیرِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک، ایئر لائن یا مالیاتی ادارہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرے گا، اسے عالمی امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے باہر نکال دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس سخت گیر فیصلے کے بعد عالمی سطح پر ہوابازی کے شعبے اور ایرانی ٹرانسپورٹیشن کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ امریکی ڈالر کی بین الاقوامی اہمیت کی وجہ سے کسی بھی ادارے کے لیے اس پابندی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔