علی بابا نے چینی تاریخ کی طاقتور ترین چپ بنا ڈالی، نیا اے آئی ماڈل بھی متعارف

Calender Icon منگل 22 ستمبر 2026

ژین وو وی 900 نامی اس اے آئی چِپ کو چینی تاریخ کی اب تک کی طاقتور ترین چپ قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری مزید بڑھاتے ہوئے نئے اے آئی ماڈل اور نئی چِپ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے شیئرز کی قیمت 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علی بابا نے اپنی سالانہ کانفرنس کے موقع پر بتایا کہ کمپنی ایسا اے آئی ماڈل تیار کر رہی ہے جس میں 5 ٹریلین سے 10 ٹریلین پیرامیٹرز ہوں گے۔

کمپنی کے مطابق اس ماڈل کا مقصد مشکل اور طویل کاموں کو آسانی سے انجام دینا ہے، علی بابا کے موجودہ فلیگ شپ ماڈل ’Qwen 3.8 Max‘ میں 2.4 ٹریلین پیرامیٹرز ہیں۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایڈی وو نے بتایا کہ علی بابا کی ٹیم نیکسٹ جنریشن ماڈل Qwen 4 پر کام کر رہی ہے جبکہ مستقبل کے Qwen 4.5 اور Qwen 5 ماڈلز میں پیرامیٹرز کی تعداد 5 سے 10 ٹریلین تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔

ان کے مطابق ٹیم نے ایسے ماڈلز تیار کرنے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے جو محدود انسانی مداخلت کے ساتھ اپنی کمزوریاں خود تلاش کرکے تجربات کر سکیں اور اپنے لیے تربیتی ڈیٹا تیار کر سکیں۔

علی بابا نے اسی کانفرنس میں اپنی سیمی کنڈکٹر یونٹ ٹی۔ہیڈ کی تیار کردہ نئی اے آئی چِپ ’ژین وو V900‘ بھی متعارف کرائی جسے چین کی اب تک کی طاقتور ترین چپ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایڈی وو کے مطابق نئی چِپ گزشتہ ماڈل M890 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ کارکردگی فراہم کرتی ہے اور بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے 5 لاکھ تک چپس کے کلسٹر میں منسلک کی جا سکتی ہے۔

نئی چِپ کی بڑے پیمانے پر تیاری اور تجارتی فروخت 2027 کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے۔علی بابا کے مطابق کمپنی کو رواں سال اے آئی چپس کی سالانہ ترسیل میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی برآمدی پابندیوں میں اضافے کے باعث چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اینویڈیا کے اے آئی پروسیسرز کے متبادل مقامی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:جماعت اسلامی کا وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان

علی بابا کے ہانگ کانگ میں حصص منگل کو 5.1 فیصد بڑھ کر ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ایڈی وو نے یہ بھی بتایا کہ علی بابا کلاؤڈ کا عالمی ڈیٹا سینٹر انفرا اسٹرکچر 2032 تک 20 گیگاواٹ سے تجاوز کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔