امریکا میں غیرملکی بچوں کی پیدائش کا ‘فراڈ’: ویزا قوانین میں نئی سخت پابندیاں

Calender Icon ہفتہ 26 ستمبر 2026

امریکا(United States) نے ایسے غیر ملکی افراد اور تجارتی نیٹ ورکس کے خلاف نئی ویزا پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو مبینہ طور پر بچوں کی پیدائش کے مقصد سے غیر ملکی شہریوں کو امریکا لانے، ویزا فراڈ میں مدد دینے یا اس عمل سے مالی فائدہ اٹھانے میں ملوث ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 23 ستمبر 2026 کو اس نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکی شہریت کے نظام، عوامی وسائل اور ٹیکس دہندگان کے مفادات کا تحفظ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پالیسی ان افراد کو ہدف بنائے گی جو جان بوجھ کر امریکا میں ’بر تھ ٹورزم‘ میں حصہ لیتے ہیں، پہلے اس میں ملوث رہے ہیں یا دوسروں کو اس مقصد کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس میں تجارتی برتھ ٹورزم نیٹ ورکس کے مالکان، منتظمین اور آپریٹرز کے علاوہ ایسے ویزا ایجنٹ یا ’فکسرز‘ بھی شامل ہو سکتے ہیں جو درخواست دہندگان کو امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے غلط بیانی یا فراڈ کی تربیت دیتے ہیں۔

پالیسی میں ان غیر ملکی طبی سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو امریکی حکام کے مطابق جان بوجھ کر ایسی سفری سرگرمیوں میں مدد کرتے ہیں یا مبینہ طور پر میڈیکیڈ نظام کے غلط استعمال میں معاونت کرتے ہیں۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے دیگر افراد بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو تجارتی برتھ ٹورزم کو سہولت، معاونت یا مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:ربیقہ خان کا سالگرہ سے پہلے پیٹرول پمپ پر انوکھا فوٹو شوٹ وائرل

’برتھ ٹورزم‘ سے مراد کسی دوسرے ملک کا سفر اس مقصد سے کرنا ہے کہ وہاں بچے کو جنم دیا جائے۔ امریکا کے معاملے میں اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو عام طور پر پیدائش کے ذریعے امریکی شہریت حاصل ہوتی رہی ہے۔ بعض افراد کے لیے بیرون ملک سے امریکا آنے کا مقصد بچے کے لیے یہ شہریت حاصل کرنا ہوتا ہے، جبکہ بعض معاملات میں طبی سہولت بھی سفر کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

امریکی حکومت پہلے ہی ایسے سفر کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہے جس میں ویزا حاصل کرنے کے وقت اصل مقصد چھپا کر امریکا آنے کی کوشش کی جائے۔ نئی پالیسی خاص طور پر ان تجارتی نیٹ ورکس پر توجہ مرکوز کرتی ہے جو مبینہ طور پر خواتین کو امریکا میں بچے کی پیدائش کے لیے لانے اور اس عمل سے رقم کمانے کا کاروبار کرتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق بعض نیٹ ورکس غیر ملکی شہریوں کو امریکی ویزا درخواستوں میں جھوٹ بولنے یا اپنی سفری وجوہات چھپانے کے طریقے بتاتے ہیں۔ روبیو نے کہا کہ ایسے نیٹ ورکس بعض اوقات امریکی سرزمین پر بچے کی پیدائش کا انتظام کرنے کے لیے دسیوں ہزار ڈالر وصول کرتے ہیں۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ویزا فراڈ اور سرکاری سہولتوں کے مبینہ غلط استعمال کے ذریعے امیگریشن نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ پابندیاں امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ ’(C)(3)(a)212‘ کے تحت عائد کی جا رہی ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق بعض حالات میں متعلقہ افراد کے خاندان کے کچھ ارکان بھی ان پابندیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

برتھ ٹورزم کی مجموعی تعداد کے بارے میں امریکا کے پاس کوئی ایسا سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں جو خاص طور پر یہ بتائے کہ کتنی خواتین سیاحتی ویزے پر امریکا آ کر بچے کو جنم دیتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں برتھ ٹورزم کے ذریعے ’سیکڑوں ہزار‘ بچے پیدا ہو چکے ہیں، تاہم اس دعوے کی براہ راست تصدیق کے لیے مخصوص سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق 2024 میں امریکا میں ایسے تقریباً 9,500 بچے پیدا ہوئے جن کی ماؤں کے پتے بیرون ملک درج تھے۔ تاہم یہ تعداد براہ راست برتھ ٹورزم کی تعداد نہیں بتاتی، کیونکہ بیرون ملک پتہ رکھنے والی ہر خاتون لازماً امریکا صرف بچے کی پیدائش کے مقصد سے نہیں آئی ہوگی۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد امریکی شہریت کی حیثیت کو برقرار رکھنا، سرکاری فوائد کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا اور امریکی ٹیکس دہندگان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ روبیو کے مطابق ویزا پابندیوں کے ذریعے ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جو مبینہ طور پر اس سرگرمی میں شامل ہو کر مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ پیدائشی شہریت کے معاملے پر بھی نئی پالیسیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگست میں صدر ٹرمپ نے بعض گروہوں کے لیے امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت کو محدود کرنے سے متعلق انتظامی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اس معاملے کی قانونی حیثیت اور دائرہ کار الگ قانونی و سیاسی بحث کا موضوع ہے۔

نئی ویزا پالیسی کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کا ہدف عام طور پر ہر حاملہ غیر ملکی مسافر نہیں بلکہ وہ افراد اور تجارتی نیٹ ورکس ہیں جن کے بارے میں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جان بوجھ کر برتھ ٹورزم، ویزا فراڈ یا متعلقہ سہولت کاری میں ملوث ہیں۔ اس طرح امریکا نے ویزا نظام کے ذریعے اس سرگرمی سے منسلک کاروباری ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کا ایک نیا راستہ اختیار کیا ہے۔