معلومات تک رسائی کا عالمی دن، صدر مملکت کا شہریوں کے حقِ معلومات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

Calender Icon پیر 28 ستمبر 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری (Asif Ali Zardari)نے عالمی یومِ معلومات تک رسائی کے موقع پر شہریوں کے حقِ معلومات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں شہری اس وقت ہی عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرسکتے ہیں جب انہیں بروقت، معتبر اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی حاصل ہو۔

اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ آئین پاکستان شہریوں کے حقِ معلومات کے لیے واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم نے اظہارِ رائے کی آزادی کے آئینی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا اور آرٹیکل 19-اے شامل کیا، جس کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد ضابطوں اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 وفاقی سطح پر معلومات تک رسائی کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی نے معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقہ کار کو تبدیل کردیا ہے۔


آصف علی زرداری نے کہا کہ آج چیلنج صرف معلومات کی دستیابی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ شہری قابلِ اعتماد معلومات اور جھوٹی، گمراہ کن یا مصنوعی طور پر تبدیل شدہ معلومات میں فرق کرسکیں۔ مختلف ریاستی و غیر ریاستی عناصر، دہشتگرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس جبکہ بے قابو اور حد سے زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیاں معلومات کو مسخ یا اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:تاپسی پنو نے شادی خفیہ رکھنے اور تصاویر چھپانے سے متعلق انکشاف کردیا

صدر مملکت نے کہا کہ اس صورتحال میں عوام دوست صحافیوں، میڈیا اداروں، ابلاغی ماہرین، محققین اور دیگر ماہرین کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے، جو شہریوں کو تیزی سے بدلتے ہوئے معلوماتی ماحول میں درست معلومات تک رسائی میں مدد دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں شہریوں کے حقِ معلومات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے اس امر کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ منافع پر مبنی غلط اور گمراہ کن معلومات کے تدارک کی کوششیں عوامی مفاد میں صحافت، منصفانہ تنقید اور بامعنی عوامی مباحثے کو دبانے کا ذریعہ نہ بنیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ سرکاری اداروں کی شفافیت، جوابدہی اور ذمہ دارانہ ابلاغ ناگزیر ہے اور شہریوں کو خصوصاً ان معاملات پر معتبر ذرائع سے قابلِ اعتماد معلومات حاصل ہونی چاہئیں جو براہِ راست ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔