امریکی فوج کا 2 دہائیوں بعد عراق سے انخلاء، کنٹرول عراقی فورسز کے حوالے کر دیا

Calender Icon بدھ 30 ستمبر 2026

امریکی فوج کا موجودہ انخلا 2024 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا۔

معاہدے پر عملدرآمد موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیا۔ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد عراق کو اپنی داخلی سکیورٹی کی ذمہ داریاں مزید خود سنبھالنا ہوں گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عراقی سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی ختم ہونے سے ملک میں ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر بڑھ سکتا ہے اور داعش کو بھی دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

عراقی سکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی نے کہا ہے کہ امریکی انخلا سے ایران کو اسٹریٹجک فائدہ ہو گا کیونکہ امریکی فوجی موجودگی کئی سال سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے بڑی رکاوٹ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نواز ملیشیا گروہ امریکی انخلاء کو اپنی تحریک کی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے اور اسے سکیورٹی اور سیاسی فیصلوں پر اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب ایران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلاء کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور عراقی عوام کی تاریخی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 30 ستمبر کو ہم عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے کا جشن منائیں گے۔ عراق نے ثابت کر دیا کہ اس کی خودمختاری غیر ملکی افواج کے ذریعے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ کی جا سکتی ہے۔

اگرچہ امریکی افواج کے حتمی انخلا کو عمومی طور پر عراقی عوام میں مقبول قرار دیا جاتا ہے، تاہم ایران نواز گروہوں کی طاقت پر تشویش رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انخلا قبل از وقت ہے۔

عراقی شہر فالوجہ کے قبائلی رہنما عبدالرحمٰن الزبیعی نے کہا کہ عراق ابھی اس مرحلے پر مکمل سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں اور کوئی عراقی اس سے اختلاف نہیں کرے گا لیکن اس انداز میں امریکی قیادت میں اتحاد کا انخلا اور ایک خلا پیدا ہونا ہی وہ چیز ہے جس کا تمام عراقیوں کو خوف ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے سال 2003 میں عراق پر حملہ کرکے اس وقت کے صدر صدام حسین کی حکومت ختم کی تھی۔ اس کے بعد امریکی فوج نے کئی سال عراق میں قیام کرکے مسلح مزاحمت کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔ امریکی فوج 2011 کے آخر میں عراق سے نکل گئی تھی۔ تاہم 2014 میں داعش کی سرگرمیوں کے بعد پھر واپس آئی تھی۔ داعش کیخلاف امریکی فوج کی کارروائیاں 2014 سے 2017 تک جاری رہیں۔

2020 میں امریکا نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں شہید کیا تھا، اس کے بعد ایران کے اتحادی مسلح گروہوں نے عراق میں امریکی سفارتخانے پر متعدد حملے کیے تھے، جن کے جواب میں امریکا نے بھی کارروائیاں کی تھیں۔

مزید پڑھیں:سوات میں 4.2شدت کے زلزلے کے جھٹکے، گہرائی 172 کلومیٹرریکارڈ

عراق میں دو دہائیوں سے زائد جاری جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، حالیہ ایران امریکا جنگ میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے، جن میں آخری ہلاکت جولائی میں اربیل کے قریب فوجی اڈے پر ڈرون کو ناکارہ بنانے کے دوران ایک امریکی سارجنٹ کی ہوئی۔