آئی ایم ایف کا پاکستان سے فیول سبسڈی اسکیم’’ فوری ختم ’’ کرنے کا مطالبہ

Calender Icon جمعرات 8 اکتوبر 2026

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان سے ‘زیادہ لاگت اور وسیع ہدف’ کے باعث سستا پیٹرول دینے والی فیول سبسڈی اسکیم ‘بلا تاخیر ختم’ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ ریلیف اسکیم گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے متعارف کرائی تھی۔

اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جس سے انہیں ماہانہ 3 ہزار روپے تک کی بچت ہو رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے اس اسکیم کی بھرپور تشہیر کی اور رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کے حصول کے لیے آسان ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا۔ متعارف کرائے جانے کے صرف 6 دن بعد وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کے بقول 17 لاکھ شہریوں نے ریلیف اسکیم میں رجسٹریشن کروائی جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 84 لاکھ افراد سبسڈی لینے کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔

ان اعداد و شمار سے آئی ایم ایف کے اسکیم سے متعلق ‘زیادہ لاگت اور وسیع ہدف’ کے اعتراضات کی وضاحت ہوتی ہے۔دوسری جانب حکومتی رہنما متعدد مواقع پر اس ریلیف اسکیم کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے تک جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔

2 ہفتے قبل وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا تھا کہ پیٹرول سبسڈی اسکیم 10 ماہ بھی چلانا پڑی تو عوام کے لیے جاری رکھیں گے۔

تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے واضح مطالبے کے بعد اس اسکیم کا مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد جاری اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے نہ صرف جاری اسکیم کو ‘فوری بند’ کرنے بلکہ مستقبل میں ایسی کسی سبسڈی اسکیم کی حوصلہ شکنی کی۔

ادارے نے واضح کیا کہ “اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں توقعات سے زیادہ بڑھتی ہیں تو مستقبل میں کسی بھی فیول سبسڈی اسکیم کو محدود مدت کے لیے رکھا جائے، اس کا دائرہ مخصوص افراد تک محدود ہو جبکہ اس کے لیے فنڈز مالی سال 2027 کے بجٹ میں سماجی امدادی پروگراموں کے لیے مختص رقم سے استعمال کیے جائیں۔”

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرض پروگراموں کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ کرلیا ہے جس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی نئی قسط جاری ہو سکے گی۔

مزید پڑھیں:بہت ہوچکا، اہم فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے، خواجہ آصف

ادارے نےمعاشی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک کو اب بھی کئی خطرات کا سامنا ہے، جن میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارتی رکاوٹیں شامل ہیں۔