ایمرجنسی یا گورنر راج، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے جارہا ہے؟ اسلام آباد میں غیرمعمولی سیاسی سرگرمیاں

Calender Icon اتوار 11 اکتوبر 2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد(Islamabad) میں غیر معمولی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں اور خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر وفاقی حکومت کی اہم مشاورت کے بعد صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے چند اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کے لیے آج اتوار 11 اکتوبر کو صبح ساڑھے 9 بجے اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں ہونے والی اہم ملاقات میں خیبرپختونخوا کی صورت حال، امن و امان، سیکیورٹی معاملات اور لانگ مارچ کے تناظر میں مختلف آئینی و انتظامی آپشنز پر غور کیا گیا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں ایمرجنسی کے معاملے کو آئینی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ایوانِ صدر میں اہم اجلاس، وفاقی قیادت کی مشاورت

صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات کی شرکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں آئینی اقدامات پر غور کیا گیا، اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ، صوبے کے بعض اضلاع میں انتظامی اختیارات کے استعمال اور وفاقی حکومت کے ممکنہ کردار پر بھی مشاورت ہوئی۔

کیا سابق فاٹا کے اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہوگی؟

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے بجائے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز زیرِ غور ہے، بعض اضلاع تک اقدامات محدود رکھنے اور وہاں وفاقی حکومت، گورنر اور انتظامیہ کے کردار کو بڑھانے کے امکانات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

تاہم ان اضلاع کی حتمی فہرست، ایمرجنسی کے ممکنہ دائرۂ کار اور انتظامی اختیارات میں تبدیلی کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایمرجنسی صرف سابق فاٹا کے اضلاع تک محدود رہے گی یا پورے صوبے کے لیے کوئی اقدام کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:فلوریڈا میں سمندری طوفان سے تباہی، 2 افراد ہلاک، 8 لاکھ صارفین بجلی سے محروم

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کو بنیاد بنا کر مختلف آئینی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق اختیارات شامل ہیں۔ دونوں آئینی طریقۂ کار کی نوعیت اور قانونی تقاضے الگ ہیں۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی صوبے کی صورتِ حال کے حوالے سے اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، گورنر نے 10 اکتوبر کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی، جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال پر صدر کو بریفنگ دی گئی۔

اس سے قبل بھی گورنر اور وفاقی وزیر داخلہ کے درمیان صوبے میں سیکیورٹی اور لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بات چیت ہو چکی ہے۔ ایسے میں گورنر کی اسلام آباد میں موجودگی اور وفاقی قیادت سے مشاورت کو آئندہ حکومتی فیصلوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان سے وزیراعظم کی اہم ملاقات، ثالثی کا کردار زیرِ بحث

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں ان کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ہوئی۔

جے یو آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان اپنی رہائش گاہ سے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوئے تھے۔

وفد میں سینیٹر مولانا عطاالحق درویش، مولانا لطف الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ شامل تھے جبکہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلۂ خیال ہونا تھا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی دعوت پر ہونے والی اس ملاقات سے قبل تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے، رابطوں کو آگے بڑھانے اور ثالثی کے ممکنہ کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

ایک طرف وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی صورت حال پر اہم فیصلوں کی تیاری کررہی ہے تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی تناؤ کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

آئین کیا کہتا ہے؟ آرٹیکل 232 اور 234 میں فرق

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔

داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ آئینی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں، جن میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے متعلق شرط بھی شامل ہے۔ اگر صدرِ مملکت اپنی جانب سے اعلان کریں تو آئین کے تحت اسے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہے۔

ایمرجنسی کے دوران پارلیمنٹ کو صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے قانون سازی کے اضافی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبائی اسمبلی کے تمام اختیارات خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے متعلق ہے، جس کے تحت صدرِ مملکت آئینی شرائط پوری ہونے پر گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں پارلیمانی منظوری اور مدت سے متعلق الگ تقاضے ہیں، جبکہ گورنر راج مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا۔

یوں ایمرجنسی اور گورنر راج دو الگ آئینی اقدامات ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ان میں سے کس راستے کو اختیار کیا جاتا ہے، اس کا حتمی تعین متعلقہ آئینی کارروائی اور سرکاری فیصلوں سے ہوگا۔

وفاقی کابینہ کا متوقع اجلاس، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں سے متعلق اطلاعات، گورنر خیبر پختونخوا کی وفاقی قیادت سے ملاقاتیں اور مولانا فضل الرحمان سے وزیراعظم کی مشاورت، یہ تمام پیشرفت آئندہ چند روز کو سیاسی طور پر اہم بنا رہی ہے۔

فی الحال بنیادی سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کو کس آئینی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھاتی ہے، آیا اقدامات پورے صوبے کے لیے ہوں گے یا مخصوص اضلاع تک محدود رکھے جائیں گے، اور کیا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران سیاسی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا کوئی راستہ نکل سکے گا۔

ان سوالوں کے جوابات وفاقی کابینہ کے فیصلے، پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی اور حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے باضابطہ اعلامیوں کے بعد ہی واضح ہوں گے۔