اسلام آباد ہائیکورٹ کا وفاقی دارالحکومت میں تمام شیشہ کیفے مکمل بند کرنے کا حکم

Calender Icon بدھ 14 اکتوبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وفاقی دارالحکومت میں بغیر این او سی اور غیر قانونی طور پر چلنے والے تمام اقسام کے شیشہ کیفوں کو مکمل طور پر بند کرنے اور انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے جاری کردہ عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز) کی فوری منسوخی کا حکم جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری عبدالجبار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اہم سماعت کی، جس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں تمام اقسام کے شیشہ کیفوں کے خلاف واضح اور سخت احکامات جاری کیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک شیشہ کیفوں سے متعلق نئے قواعد و ضوابط (رولز) تیار نہیں ہو جاتے، تب تک اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی قسم کا شیشہ کیفے کھلا نہیں رہے گا۔ عدالتی حکم کے تحت نئے رولز کی منظوری تک شیشہ کیفوں کی تمام تر سرگرمیاں معطل رہیں گی اور اس دوران انڈور و آؤٹ ڈور، ہر قسم کے شیشہ کیفے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

کیس کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو 15 جولائی 2026 کو سماعت کے دوران عدالت نے انتظامی حکام سے شہر میں قائم شیشہ کیفوں کی مکمل تفصیلات طلب کی تھیں، جس کے بعد 9 ستمبر 2026 کو عدالت عالیہ نے متعلقہ حکام کو ایک ماہ کے اندر جامع قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ موجودہ سماعت میں عدالت نے تمام تر جاری کردہ این او سیز واپس لینے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کو نئے انتظامی قوانین کی تیاری سے مشروط کر دیا ہے۔ ہائیکورٹ کی جانب سے اس کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا جس میں عمل درآمد کے طریقہ کار کی مزید تفصیلات آئیں گی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ سامنے آتے ہی دارالحکومت کی انتظامیہ تحرک میں آ گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات کی روشنی میں نئے قواعد متعارف ہونے تک شہر کے تمام شیشہ کیفے مکمل طور پر بند رکھے جائیں گے، اور عدالتی حکم اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آج رات سے ہی انتظامیہ کا سخت اور بےلاگ کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے۔