مکہ مکرمہ، مسجد میں ’غیراخلاقی حرکات‘ کا الزام، بنگلی مرد و خاتون کو سزائے موت

Calender Icon جمعہ 16 اکتوبر 2026

سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ غیراخلاقی حرکات کے ارتکاب پر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی۔

گلف نیوز کا کہنا ہے کہ سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق دونوں افراد کی شناخت نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کے نام سے ہوئی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی حکام نے مسجد کے اندر مبینہ غیراخلاقی حرکات کے بعد دونوں کو گرفتار کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دونوں کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور مقدمہ متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر تعزیری قانون کے تحت سزائے موت سنائی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ عدالت نے جرم کی سنگینی، مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور واقعے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سزا مقرر کی۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق عدالتی فیصلوں کی متعلقہ عدالتی اتھارٹی سے توثیق کے بعد انہیں حتمی شکل دی گئی اور سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا، دونوں افراد کو بدھ 14 اکتوبر 2026 کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں سزائے موت دی گئی۔

وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی حکومت سکیورٹی برقرار رکھنے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے پُرعزم ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مساجد کے تقدس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مملکت کے قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق بنگلہ دیشی قونصل خانے نے کہا ہے کہ سعودی حکام نے سزاؤں پر عمل درآمد سے قبل اسے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا تھا۔

جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے کے ایک عہدیدار نے دی ڈیلی اسٹار کو واٹس ایپ پیغام میں بتایا کہ مشن کو سعودی وزارت کی جانب سے سزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق بنگلہ دیشی قونصل خانے نے سعودی وزارتِ خارجہ کو ایک باضابطہ سفارتی مراسلہ بھیجا ہے، جس میں واقعے کی باضابطہ تصدیق اور معاملے کا اعتراف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر کی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع

سعودی حکام نے اپنے بیان میں مبینہ غیراخلاقی فعل کی درست نوعیت، مسجد کا نام یا واقعے کے دیگر حالات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔سعودی حکام نے جرم کی سنگینی اور مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی کو سزائے موت کی وجہ قرار دیا۔