غربت کے خاتمے کا عالمی دن، پاکستان بھوک بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل

Calender Icon ہفتہ 17 اکتوبر 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے غربت اور محرومی کا خاتمہ کرنا، انسانی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ کرنا ہے۔

غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف زرداری نے اپنے پیغام میں ملک سے غربت ختم کرنے کیلئے مستقل اور ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور تعلیم، صحت کی سہولتوں اور مناسب رہائش تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنا ضروری ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو عالمی بھوک کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، نقل مکانی اور انسانی امداد کے لیے کم ہوتے وسائل نے کمزور طبقات کو غذائی عدم تحفظ کی مزید سنگین صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔

عالمی یومِ خوراک کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹ ”دنیا کے 10 بڑے غذائی بحران“ میں خبردار کیا گیا ہے کہ معاشی بحالی کی کوششوں اور بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود پاکستان میں 2026 کے دوران ایک کروڑ 6 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہو گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ افراد ان 10 ممالک میں رہتے ہیں جہاں بھوک کا بحران سب سے زیادہ سنگین ہے، گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے شکار افراد کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ 47 ممالک میں 26 کروڑ 60 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غذائی بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں نائیجیریا، کانگو، سوڈان، یمن، افغانستان، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان، جنوبی سوڈان اور شام شامل ہیں۔

پاکستان میں مسلسل غربت، خوراک کی بلند قیمتیں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی، روزگار کے محدود مواقع اور گھریلو آمدنی میں کمی کے باعث خاندانوں کی قوتِ خرید مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ زرعی اجناس کی ناموافق قیمتوں اور مجموعی معاشی عدم استحکام نے بھی لوگوں کے ذرائع معاش کو نقصان متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے لیے مناسب خوراک کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانی امداد کی ضروریات دستیاب وسائل سے بڑھنے کے باعث کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندان مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو طویل مدت میں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں خوراک کا استعمال کم کرنا، آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے فروخت کرنا اور مالی دباؤ کے باعث بچوں کو اسکول سے نکالنا شامل ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات وقتی طور پر مالی مشکلات کم کر سکتے ہیں تاہم ان سے غربت میں اضافہ، بچوں کی تعلیم اور غذائیت متاثر ہونے اور مستقبل کے بحرانوں سے نکلنے کے لیے خاندانوں کی صلاحیت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔

صحت کی سہولیات، غذائیت سے متعلق خدمات، صاف پانی، نکاسی و صفائی کے نظام اور سماجی تحفظ تک محدود رسائی نے بھی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دیہی اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہے۔

مسلسل غربت اور شدید غذائی قلت انسانی امداد کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ امدادی خدمات اور ذرائع معاش کے پروگراموں میں کٹوتیوں سے مقامی آبادیوں کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت مزید متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آفات غذائی عدم تحفظ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور مون سون کی بارشوں کے غیر متوقع انداز نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، زرعی پیداوار کم کی اور مویشیوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے ذرائع معاش کو متاثر کیا ہے۔

فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات اور طویل خشک موسم کے باعث خاندانوں کا خوراک کے لیے منڈیوں پر انحصار بڑھ گیا ہے لیکن بہت سے خاندانوں کی قوتِ خرید محدود ہونے کے باعث مناسب خوراک خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک کے کئی اضلاع میں طویل خشک سالی کی صورتِحال برقرار ہے، جس سے زرعی پیداوار اور دیہی آمدنی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمی مشکلات مخصوص ادوار میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے عرصے کو ایسا دور قرار دیا گیا جس میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ تھا۔ اس دوران بعض علاقوں میں طویل سرد موسم اور شدید برف باری کے باعث منڈیوں اور ضروری وسائل تک رسائی محدود ہونے کا خدشہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق بدامنی اور علاقائی کشیدگی پاکستان کی پہلے سے غیر مستحکم غذائی صورتِ حال پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بدامنی کے باعث لوگوں کے ذرائع معاش متاثر ہو رہے ہیں، منڈیوں تک رسائی محدود اور انسانی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:ایمرجنسی یا معدنی وسائل؟ طارق فضل چوہدری کا مولانا فضل الرحمٰن کو دوٹوک جواب

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، محدود قوتِ خرید اور امدادی وسائل میں کمی کے باعث پاکستان کے کمزور طبقات کو غذائی عدم تحفظ کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔