متنازع بیان کا ’شوق نہیں‘، پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں، فضل الرحمان

Calender Icon ہفتہ 17 اکتوبر 2026

جمعیت علماء اسلام پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے اور آئندہ ماہ سرگودھا میں بھی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ وہ جے یو آئی کے مرکزی رہنما بلال میر کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کرنے کے لیے لاہور میں موجود تھے۔

اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان سے سوال کیا گیا ہے فیصل واوڈا کے بیان کے بعد آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پنجاب یا سندھ میں بھی گورنر راج لگے گا؟ اس پر مولانا نے واضح کیا کہ ”مسئلہ بنیادی یہ نہیں ہے کہ وہاں بھی ایمرجنسی لگے گی، وہاں بھی لگے گی تو ہم وہاں بھی اختلاف رائے کریں گے۔“

انہوں نے کہا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ سپریم کون ہے؟ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے؟ تو پھر فیصلے پارلیمنٹ کرے نہ کہ کہیں اور فیصلے کرکے انہیں پارلیمنٹ پر مسلط کیا جائے۔

خود پر دہشت گردوں کے حامی ہونے کے الزامات کے سوال کے جواب پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور انہوں نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں ’مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں‘، پر ’دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”دہشت گردی کے ماحول میں جے یو آئی کے ڈھائی سو علماء اور کارکن شہید ہوئے ہیں۔ اس طرح کے بیان دینا کسی پارٹی کی ملک اور عوام کے لیے قربانیوں کا مذاق اڑانا ہے، کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے یا اسے یہ بات جچتی ہے کہ وہ ملک کے وفادار لوگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں؟“

یاد رہے کہ مولانا نے خود جولائی میں شہدا کی قربانیوں پر ایک متنازع بیان دیا تھا جس پر ملک بھر کی سیاسی قیادت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان نے یہ بیان واپس لینے کی اپیل کی تھی۔

اس پر مولانا نے آج کی میڈیا ٹاک میں اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے ہیں، ہم ان کی پالیسیوں پر بات کر رہے ہیں، ایک پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے کسی فیصلے پر اصلاح کی نیت سے تنقید کرے کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر ان کو ایسی گفتگو نہیں چاہیے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے ملک میں ایسی بحث چھڑ جائے اور اپنے ہی اداروں اور جوانوں کی قربانیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے۔“

انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید ریاستی اداروں پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت عوام سے دہشت گردی کے خلاف ساتھ دینے اور اس جنگ میں شریک ہونے کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا اسے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ نہیں کرنا چاہیے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بنانی ہے تو پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، تمام متعلقہ فریقوں اور صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے اور مشترکہ تجاویز کی بنیاد پر پالیسی مرتب کی جائے۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں اپنے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کی درخواست پر انہوں نے ثالثی کی کوشش کی تھی۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد کے بعد حکومت کے نمائندے بھی ان کے پاس آئے اور ان سے معاملات میں مداخلت کی درخواست کی۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے دونوں جانب کے مطالبات سنے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریق اس بات پر متفق تھے کہ ان کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے تاہم اختلاف اس بات پر تھا کہ معاہدے سے پیچھے کون ہٹا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے کرانے کے لیے اب ان کے ثالثی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا اور فیصلے صرف کسی ایک فریق کی خواہش کے مطابق نہیں کیے جا سکتے۔

اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ گرینڈ الائنس اور حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاج کے بارے میں سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت پارلیمان کے اندر مشترکہ اپوزیشن کے ساتھ تعاون کے لیے پُرعزم ہے، تاہم پارلیمان سے باہر کسی مشترکہ تحریک کے حوالے سے ان کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوسری جماعتیں کسی اتحاد یا احتجاج کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہیں تو انہیں خود اس کا اعلان کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جمعیت علماء اسلام پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے اور آئندہ ماہ سرگودھا میں بھی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔

سعودی عرب پر حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب کو پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست قرار دیا اور سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو حرمین شریفین کی خدمت کے باعث مسلم دنیا میں خصوصی مقام حاصل ہے اور اس پر حملوں کی مذمت کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کسی ایک حکمران کی پالیسیوں کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدے مثبت پیشرفت، عملی حصہ لینے کو تیار ہیں: مسعود پزشکیان

مولانا فضل الرحمان نے ملک میں سرمایہ کاری کی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان سے سرمایہ باہر جانے اور ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے جیسے معاملات پر عوامی سطح پر بات کرنا ان کا حق ہے۔