اے آئی ماڈل چیٹ جی پی ٹی نے کوڈنگ ٹاسک کیلئے کرپٹو کرنسی چرالی

Calender Icon ہفتہ 17 اکتوبر 2026

اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے ایک تجرباتی اے آئی ماڈل نے تربیتی اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے والیٹس سے رقم چرانے کا راستہ اختیار کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے (جو جون میں پیش آیا لیکن اس کی تفصیلات جمعرات کو سامنے آئیں) میں اوپن اے آئی کے ایک اندرونی تحقیقی ماڈل جی پی ٹی-5.6 سول کا ذکر کیا گیا ہے جسے جولائی میں ادائیگی کرنے والے چیٹ جی پی ٹی صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔

ماڈل کو دیے گئے اسائنمنٹ میں کرپٹو کرنسی کی تجارت سے متعلق ایک ایپلی کیشن کو اپ ڈیٹ کرنا اور ایتھیریم کے ٹیسٹ نیٹ ورک پر اسمارٹ کانٹریکٹس، یعنی مخصوص خودکار کوڈ، شائع کرنا شامل تھا۔

اسمارٹ کنٹریکٹس شائع کرنے کے لیے نیٹ ورک فیس درکار ہوتی ہے لیکن اوپن اے آئی نے اس کام کے لیے ماڈل کو کوئی رقم فراہم نہیں کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق مطلوبہ رقم دستیاب نہ ہونے پر ماڈل نے ایسے سیکڑوں کرپٹو والیٹ ایڈریسز تلاش کیے جن کی رسائی معروف ریکوری فریز کے ذریعے ممکن تھی اور ان اکاؤنٹس سے رقم چرانے کی کوشش کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق ماڈل نے رقم لینے سے پہلے خود سے یہ سوال کیا کہ آیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔ بعد ازاں اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کرپٹو والیٹس عملاً متروک شدہ ہیں، اس لیے ان سے رقم حاصل کرنا قابلِ قبول ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت، ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم

اوپن اے آئی نے اس واقعے سے متعلق رپورٹ میں کہا کہ ہدایات میں واضح طور پر کہیں بھی اس اکاؤنٹ سے رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جسے ماڈل نے خود تلاش کیا تھا۔