یمن(Yemen) کے حوثی باغیوں نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران کے قریب سرحدی علاقے میں سعودی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل اور متعدد ڈرونز فضا میں ہی تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔
حوثی فورسز کے ملٹری ترجمان یحییٰ سریع نے حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی یمنی خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر سرحدی علاقے میں ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھا، جسے حوثی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
حوثیوں کی جانب سے ہیلی کاپٹر تباہ کیے جانے کے دعوے پر سعودی حکام کا فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب سعودی اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ فوجی اتحاد نے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ دارالحکومت ریاض، مشرقی صوبے اور جنوبی علاقوں میں کُل چار ڈرونز کو بھی حدِ نشانہ بناتے ہوئے ناکارہ بنایا گیا۔
میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر سعودی سول ڈیفنس نے دارالحکومت ریاض، ابہا اور خمیس مشیط میں وقتی طور پر ہنگامی الرٹ جاری کیا، جسے بعد میں خطرہ ٹلنے پر واپس لے لیا گیا۔
مزیدپڑھیں:ایمرجنسی واپسی کی شرط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، رانا ثناء
اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ ایک الگ بیان میں فوجی اتحاد نے شمالی یمن کے علاقے صعدہ میں دو بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے، جن کے بارے میں اتحاد کا دعویٰ ہے کہ انہیں سعودی عرب کے سرحدی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان فوجی کشیدگی اور حملوں کی حالیہ لہر جولائی کے بعد سے شدت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ 2022 میں قائم ہونے والا سیز فائر معاہدہ حوثیوں کی جانب سے ختم کر دیا گیا تھا۔
سنہ 2014 میں حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعاء اور دیگر صوبوں پر قبضے کے بعد سے یمن شدید خانہ جنگی کی زد میں ہے، جس کے بعد 2015 میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے باقاعدہ ملٹری آپریشن شروع کیا تھا۔













اتوار 18 اکتوبر 2026 

