سعودی جنگی طیاروں کے حوثی ٹھکانوں پر 110 فضائی حملے، 30 سے زائد افراد ہلاک

Calender Icon منگل 20 اکتوبر 2026

سعودی عرب(Saudi Arabia) کی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف اضلاع میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیوں میں شدید اضافہ کرتے ہوئے 110 حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب جواب میں حوثی گروپ نے بھی سعودی عرب کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی ملکی سطح پر حوثی فورسز کے خلاف زمینی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء، الحدیدہ، تعز، عمران، حجہ، صعدہ، الجوف، الضالع اور مأرب کے علاقوں میں قائم حوثی ملیشیا کے عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی۔

ان فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد اہم تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

انہی کارروائیوں کے ردعمل میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی سرحدی شہر نجران پر ایک پروجیکٹائل داغا گیا، جو ایک رہائشی علاقے میں گرا۔ سعودی حکام کے مطابق اس واقعے میں چھ شہری زخمی ہوئے جبکہ تین مکانات اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں:ایران نے جرمنی کے سفیر کو طلب کرلیا، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ

سعودی عرب کے سرحدی شہروں پر حوثی شدت پسندوں کے مسلسل حملوں اور سیکیورٹی صورت حال کے پیشِ نظر متاثرہ علاقوں کے تمام اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں اور آن لائن کلاسز کے سلسلے کو دوسرے ہفتے تک بڑھا دیا گیا ہے تا کہ طلباء اور تعلیمی عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی اثناء میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی حوثی باغیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر پیش قدمی تیز کر دی ہے۔

یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف محاذوں پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر 1326 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 300 سے زائد حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ صوبہ تعز میں پیش قدمی کے دوران فورسز نے متعدد اہم عسکری پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں موجود بھاری ہتھیاروں اور جنگی سامان کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔