میر رضا کیس کا فیصلہ کن موڑ، سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کردی

Calender Icon منگل 20 اکتوبر 2026

کراچی: کراچی کے پُراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کیس میں حکومتِ سندھ نے ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی تفصیلی انکوائری رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کیس کی یہ حساس رپورٹ آج ہی محکمہ داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دی جائے گی، جبکہ اس کی ایک خصوصی کاپی متاثرہ خاندان کو بھی فوری طور پر فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے رپورٹ پر فوری عمل درآمد کے لیے وزرا پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

سندھ کابینہ کا اجلاس اور جوڈیشل کمیشن کے اہم فیصلے
تفصیلات کے مطابق، میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی تھی۔ کمیشن نے اپنی 15 طویل سماعتوں کے دوران کل 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پولیس تفتیش، طبی قانونی کارروائیوں اور غفلت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا۔

کمیشن نے اپنی یہ جامع رپورٹ 7 مختلف لفافوں میں بند کر کے 15 اکتوبر کو سندھ حکومت کے حوالے کی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے اور اس کی نقول متاثرہ خاندان تک پہنچانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزراء ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جو کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

عدالت میں تفتیشی افسر کی ناکامی اور مزید مہلت

دوسری جانب، کراچی کی ایک مقامی عدالت میں آج پھر میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران پولیس کے تفتیشی افسر ایک بار پھر عدالت کے سامنے کیس کا حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام رہے، جو کہ تیسری مرتبہ ناکامی ہے۔ عدالت نے تفتیشی حکام کو مزید مہلت فراہم کرتے ہوئے سخت ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت میں حتمی چالان پیش کیا جائے، اور کیس کی مزید کارروائی 2 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

میر رضا کیس کا پس منظر: خودکشی سے قتل تک کا سفر
یہ المناک واقعہ رواں برس 28 جولائی کو اس وقت شروع ہوا جب کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کے علاقے سے پُراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس کے دو روز بعد 30 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے انتہائی تشویش ناک حالت میں برآمد ہوئی۔

ابتدائی پولیس مؤقف اور شکایات:
پولیس نے ابتدائی طور پر اس دلخراش واقعے کوخودکشی قرار دے کر کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم، مقتول کے اہل خانہ نے اس نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا کو اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ لاش کے سینے پر گولی کا واضح نشان موجود تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ لاش ملنے سے ایک روز قبل ہی ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔

قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم:
خاندان کے شدید تحفظات اور دباؤ پر عدالت نے قبر کشائی کا حکم دیا، جس پر 8 اگست کو خصوصی میڈیکو لیگل بورڈ نے لاش کی قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔ اس دوسری رپورٹ میں تشدد اور باقاعدہ قتل کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، جس کے بعد فیروز آباد پولیس نے مقدمے میں دفعہ 302 شامل کر کے اسے قتل کے کیس میں تبدیل کر دیا۔

مالی معاملات اور کرپٹو کے دعوے:
تفتیش کے دوران میر رضا کے مالی معاملات، کرپٹو مارکیٹ میں مبینہ بھاری نقصانات اور سرمایہ کاروں کو منافع دینے کے لیے لوگوں سے ادھار لی گئی رقم سے متعلق بھی مختلف کہانیاں سامنے آتی رہیں، جن کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن نے بھی اپنے دائرہ کار میں رکھی ہیں۔